اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں
1.25 فیصد اضافہ کردیا۔ نئی شرح سود 15 فیصد مقررکردی گئی۔
قائم
مقام گورنر اسٹیٹ بینک مرتضی سید کا کہنا ہےکہ
مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
کھانےپینےکی اشیاءکی قیمتوں میں اضافےکوکنٹرول کرنےکی ضرورت ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں اضافہ کردیا۔
شرح سود ایک ساتھ 1.25 فیصد اضافہ سے 15 فیصد مقررکردی ۔
قائم مقام گورنراسٹیٹ بینک مرتضی سید نےویڈیولنک سے خطاب میں نئی شرح
سود کا اعلان کیا،،،
مرتضی سیدنےکہا کہ آئندہ مالی
سال معاشی ترقی کی شرح 3 سے 4 فیصد
رہے گی۔
افراط زر کی شرح 18 سے 20 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ مہنگائی غریب
آدمی کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔
غذائی اشیا کی قیمتیں کنٹرول کی جائیں۔ زرعی پیداوار بڑھائی جاسکتی
ہے، سپلائی چین کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔۔
اعدادوشمارکےمطابق گزشتہ سال مئی دوہزاراکیس سےاگست تک شرح سودآٹھ فیصدپربرقراررہی۔
ستمبراوراکتوبرمیں آٹھ اعشاریہ دوپانچ فیصدہوئی۔
نومبردوہزاراکیس میں شرح سود
نواعشاریہ سات پانچ فیصد،دسمبردوہزاراکیس سےجنوری،فروری اورمارچ دوہزاربائیس
تک دس اعشاریہ سات پانچ فیصدرہی ۔
رواں سال اپریل میں شرح سود
تیرہ اعشاریہ دوپانچ فیصداورمئی میں تیرہ اعشاریہ سات پانچ فیصدہوئی۔
کورونااورلاک ڈاون کی صورتحال کےبعد
شرح سود میں بتدریج اضافہ دیکھاجارہاہے۔
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ ملکی سطح پر جب توانائی کی سبسڈیز واپس لی
گئیں تو مہنگائی کئی گناہ بڑھ کر 14 سال کی بلند ترین سطح تک جاپہنچی۔