ڈبلیو ڈبلیو ایف کی لیونگ پلانیٹ انڈیکس رپورٹ
منظر عام پر آگئی۔ رپورٹ کے مطابق 1970 کے بعد سے جنگلی حیات کی آبادی میں اب تک
انہتر فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
میٹھے پانی میں بسنےوالی مختلف نسلوں کی آبادی میں
تراسی فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں اور حیاتیاتی تنوع کے نقصان
کی وجہ سے مستقبل اور موجودہ نسلوں کی فلاح و بہبود کو خطرہ ہے۔
ورلڈ
وائلڈ فنڈ کی لیونگ پلینٹ انڈیکس رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آگئے۔1970
کے
بعد سے اب تک جنگلی حیات کی آبادی میں انہتر فیصد جبکہ میٹھے پانی میں بسنے والی
مختلف نسلوں کی آبادی میں تراسی فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔۔
ماہرین کے مطابق پانچ ہزار سے زیادہ اقسام کی تقریبا 32 ہزار آبادیوں پر مشتمل اتنے بڑے
اعداد و شمار کے ساتھ لیونگ پلانیٹ انڈیکس سے سامنے آئی یہ شرح حیران کن ہے۔
برفانی چیتے، دریائے سندھ کی ڈولفن، سفید اور
لمبے گدھ سمیت نایاب جنگلی حیات خطرات سے دوچار ہیں۔
ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان حماد نقی
کا کہنا ہے کہ رواں سال مون سون بارشوں سے 15 سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
10
لاکھ پودوں اور جانوروں کی نسلوں کے معدوم ہونے کا بھی خدشہ ہے۔
ڈھائی فیصد پرندے ، ممالہ ، خشکی پر رہنے والے،
رینگنے والے جانور اور مچھلیاں پہلے ہی ناپید ہوچکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق قدرتی مثبت معاشرے کے تحفظ کیلئے
وقت کم ہے۔
ہنگامی سطح پر
اقدامات نہ کئےگئے تو بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔
پاکستان میں جنگلی حیات کا تحفظ عام سطح پر ترجیحات
میں شامل نہیں ہے
۔قدرتی رہائشی مقامات کا نقصان، جنگلی حیات کی
غیر قانونی تجارت، شکار، آلودگی اور دیگر انسانی مداخلت سےپیدا خطرات بھی لاحق ہیں۔