معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کا مشن ۔۔۔سندھ پولیس نے منشیات فروشی میں ملوث عناصر پر قانونی شکنجہ مضبوط کردیا۔۔۔ وزارت قانون کی منظوری کے بعد منشیات فروشوں کے خلاف نئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے جانے لگے ہیں ۔
نوجوان نسل کی رگوں میں زہر اتارنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لئے سندھ پولیس کا بڑا اقدام۔۔۔
اب جیسی منشیات برآمد ہوگی،ویسا ہی مقدمہ درج ہوگا ۔۔۔سزا بھی ویسی ہی ملے گی۔۔۔
وزارت قانون کی منظوری کے بعد سندھ پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف نئی دفعات کے تحت مقدمات کااندراج شروع کردیا۔۔۔
تفتیشی حکام کے مطابق سائیکو ٹراپک ڈرگ کی کٹیگری میں مہلک منشیات آئس ،کرسٹل ،میتھا فیٹامائن کے ساتھ ان کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد بھی شامل ہے۔۔۔اس نوعیت کی بیس گرام تک منشیات برآمد ہونے پر ملزم کو کم از کم دو ماہ اور زیادہ سے زیادہ ایک سال قید اورپچاس ہزار روپے جرمانہ جبکہ چارکلو گرام یا اس سے زائد منشیات برآمد ہونے پر عمر قید کی سزا اوربیس لاکھ روپے تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔۔۔
ایس ایس پی سٹی انوسٹی گیشن ، علی مردان کھوسو۔۔۔پہلےہمارے پاس چنددفعات ہوتی تھیں ۔۔۔انیس سوستانوے کےایکٹ کےتحت ۔۔۔پہلے بہت ہی معمولی چھوٹی کی سزاتھی ۔۔۔اس میں کافی ساری منشیات کی تعریف بیان نہیں کی گئی تھی۔۔۔ان کی سزائیں بھی اس وقت نہیں دی گئی تھیں ۔۔۔جواب اس میں بہت اچھے طریقے سےمخصوص کرکےواضح کی گئی ہیں۔۔۔کہ اس منشیات کی اتنی سزاہوگی اتنی مقدارہونےپر۔۔۔
اس ہی طرح بھنگ،ہیروئن،مورفین،کوکین،افیون،چرس اور حشیش سمیت دیگر اقسام کی منشیات کو مختلف کٹیگریز میں تقسیم کرکے ان کی سزائیں اور جرمانے بھی الگ الگ مقرر کردئیے گئے ہیں۔۔۔ چرس کی برآمدگی پر کم سے کم پانچ سال سزا اور دس کلو سے زائد مقدار پر سزائے موت ہوسکے گی۔۔۔اس ہی طرح ہیروئن کی سو گرام مقدار پر کم از کم سات سال قید اور چھ کلوگرام سے زائد پر سزائے موت ہوسکے گی۔۔۔ بھنگ کی برآمدگی پر کم سے کم تین سال قید اور بیس کلو سے زائد مقدار پر سزائے موت جبکہ افیون کی زیادہ مقدار برآمد ہونے والے کم از کم چودہ سال سزا اورآٹھ لاکھ جرمانہ ہوگا۔
تفتیشی حکام کا دعویٰ ہے کہ نئی پالیسی کے بعد مقدمات کی نہ صرف تفتیش آسان ہوگئی ہے بلکہ ملزموں کو سزا دلوانے میں بھی آسانی ہوگی۔
ایس ایس پی سٹی انوسٹی گیشن ، علی مردان کھوسو۔۔۔اس میں ابھی جتنے بھی مقدمات ہورہےہیں وہ سب ان ہی دفعات کے تحت ہورہےہیں ۔۔۔منشیات کی قسم اور مقدار کی بنیادپرمقدمات درج کیےجارہےہیں۔
پولیس حکام
کا دعویٰ ہے کہ منشیات فروشوں
کے خلاف
ہونے والی مؤثر قانون سازی کے باعث جرائم کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔