دہشت گردوں کے علاج معالجہ کیس کی سماعت سترہ جون تک ملتوی۔سندھ حکومت کی مقدمہ واپس لینے کی درخواست پر گزشتہ سماعت میں عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
ملزم رہنما ایم کیوایم روف صدیقی کا کہنا ہے ہم پر دباؤ ڈالا گیا کہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ بحالت مجبوری جڑے رہیں۔
کراچی کی انسداد دہشت گری عدالت میں دہشت گردوں کو علاج معالجے کی سہولت فراہم کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ایم کیو ایم کے رہنما رؤف صدیقی، وسیم اختر اور انیس قائم خانی اور دیگر ملزمان پیش ہوئے۔ جج کی رخصت کے باعث سندھ حکومت کی مقدمہ واپس لینے کی درخواست پر سماعت سترہ جون تک ملتوی کردی گئی۔
گزشتہ سماعت پر عدالت نے درخواست پر سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے کیس واپس لینے کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
محکمہ داخلہ کا موقف ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر کے خلاف کوئی گواہ نہیں ملے۔ تفتیشی افسر نے ابتدائی مراحل میں بھی عدم شواہد پر کیس اے کلاس کردیا تھا۔
تعزیرات پاکستان کی دفعہ چار سو چورانوے کے تحت ملزمان پر کیس ختم کیا جائے۔
ضیا الدین اسپتال میں دہشت گردوں کے علاج معالجے کا مقد مہ دوہزار پندرہ میں رینجرز کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔ مقدمے میں ڈاکٹر عاصم حسین، انیس قائمخانی، قادر پٹیل، وسیم اختر، روف صدیقی، عثمان معظم اور سلیم شہزاد و دیگر کو نامزد کیا گیا تھا۔ میڈیا سے گفتگو میں رہنما ایم کیوایم روف صدیقی کا کہنا تھا ہم پر دباؤ ڈالا گیا کہ ہم تحریک انصاف کے ساتھ بحالت مجبوری جڑے رہیں۔
ہم اتحادی تھے اس کے باوجود ہماری قیادت ہر دوسرے دن عدالتوں میں ہوتی تھی۔
اتنا تکبر کسی کے لئے بھی مناسب نہیں ۔
ایک وقت تھا جب تحریک انصاف والے ٹاک شوز میں ہمارے نام لیکر قہقہے لگایا کرتے تھے۔
کہا جاتا تھا یہ ملزم نہیں مجرم ہیں، ان کو سزا کیوں نہیں ملتی۔