صنفی تفریق و ہراسانی کی وجہ سے سندھ کے خواجہ سرا انتخابی عمل سے بھی دور

سید سبط حسان رضوی سید سبط حسان رضوی

 صنفی تفریق و ہراسانی کی وجہ سے سندھ کے خواجہ سرا انتخابی عمل سے بھی دور

سال 2018 کے عام انتخابات میں خواجہ سرا کمیونٹی کے حقوق کے لیے سرگرم شہزادی رائے کو اس وقت مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب وہ دوران الیکشن گلستان جوہر کے پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کے عمل کا مشاہدہ کرنے پہنچیں۔

سیاسی جماعت کے کارکنوں سمیت وہاں موجود لوگوں نے ناصرف تمسخر اڑایا بلکہ سوالات بھی اٹھائے۔

شہزادی بتاتی ہیں کہ خواجہ سرا کمیونٹی کے لیے علیحدہ قطار تو دور کی بات۔

 مرد اور خواتین دونوں ہی خواجہ سرائوں کی پولنگ اسٹیشن میں آمد کو عجیب انداز میں دیکھ رہے تھے۔

 حال ہی میں ہوئے بلدیاتی انتخابات میں بھی حال کچھ ایسا ہی تھا۔

گو کہ سندھ اس حوالے روشن خیالی کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن سندھ کے ضلع سانگھڑ میں ٹرانسجینڈرز کی کونسل میں شمولیت پر بھی اعتراض اٹھایا گیا۔

 شہزادی رائے کا کہنا ہے کہ اس بار خواجہ سرا کمیونٹی کے کئی افراد کے حق رائے دہی استعمال نہ کرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

نادرا نے اپنا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ نہیں کیا اور الیکشن کمیشن کی مقررہ تاریخ گزر جانے کے باوجود ووٹر رجسٹریشن کا آغاز نہیں ہوسکا ہے۔

شہزادی رائے کا کہناہے کہ جس طرح افغان تارکین وطن کو  ملک بدر کیا جارہاہے اس بات کا سوچتے ہوئے بھی خوف آتاہے کہ کہیں آنے والے کل میں ہمیں بھی ڈیٹینشن  سینٹر میں نہ منتقل کردیا جائے۔

کمیونٹی میں اس حوالے سے شدید خوف پایاجاتا ہے۔ وہ اپنی شناخت چھپانے پر مجبور ہیں۔ 

  محکمہ بہبود آبادی سندھ کے اعداد و شمار کے مطابق سندھ میں خواجہ سرا کمیونٹی کی مجموعی تعداد 2 ہزار 527 ہے۔

اسی طرح کراچی میں خواجہ سراوں کی تعداد 1497 بنتی ہے۔

 یہ اعداد و شمار 2017 کی مردم شماری سے ہی لیے گئے ہیں۔

 خواجہ سرا کمیونٹی کو ان اعداد و شمار پر بھی اعتراض ہے۔

 ٹرانس راٹس کے لئے کام کرنے والے ادارے جینڈر انٹرایکٹو الائنس کی رپورٹ کے مطابق خواجہ سرائوں کی سندھ میں رجسٹریشن 38 ہزارکے قریب ہے۔

 کراچی میں کمیونٹی کے 22 ہزار افراد رجسٹرڈ ہیں۔

 پروگرام مینجر جینڈر انٹر ایکٹو الائنس زہرش خانزادی کے مطابق خواجہ سرا کمیونٹی کو اپنی شناخت ظاہر کرنے کے بعد زیادہ مشکلات ہوتی ہیں۔

کورونا وبا کے دوران ویکسینیشن کے معاملے پر بھی خواجہ سرا کمیونٹی کی الگ قطار کا معاملہ اٹھا تھا۔

سیاسی جماعتوں کا رویہ

بلدیاتی الیکشن میں  حصہ لینے والے کئی خواجہ سرائوں سے جب یہ سوال پوچھا گیا کہ آپ کو پولنگ کے دن مردوں کی لائن میں کھڑا کیا جاتاہے یا عورتوں کی لائن میں ۔

تو انکا جواب تھا کہ ہمیں مردوں کی لائن میں کھڑا کیا جاتاہے۔جہاں پر ہمارا بھرپور انداز میں مذاق اڑایاجاتاہے۔یہاں کیا کرنے آئے ہو، سیاست میں آکر بھی تم لوگ ڈانس کرو گے۔

عجیب و غریب ناموں سے پکارا جاتاہے۔ جملے کسے جاتے ہیں ۔

سب کے سامنے تماشہ بنایا جاتا ہے۔

سب سے پہلے تو ہماری پولنگ کے روز کوئی الگ قطار نہیں ہوتی۔

دوسرا یہ کہ اگر ہم تھوڑا بہت خواتین کےلائن کے آگے یا پچھے کھڑے ہوتے تو وہ چیخنا شروع کردیتی ہے کہ خواجہ سرا کا یہاں کیا کام ہے جو ہماری لائن میں کھڑا  ہو رہاہے۔

جب ہمیں مردوں کی لائن میں کھڑا کیا جاتاہے تو نہ صرف ہمیں غلط نظروں سے دیکھا جاتاہے بلکہ ہاتھوں کا استعمال ، جملے ہر طرح کی بدتمیزی کی جاتی ہے جسے کوئی بھی روک نہیں سکتا۔

بعض سیاسی جماعتیں تو ہمارے نام سے بھی چڑ کھاتی ہے اور نہ وہ ہمیں اپنے ساتھ رکھنے کوتیار ہوتی ہیں اور نہ ہی وہ ہمیں انسان کے طوپر بھی قبول کرتی ہیں۔

خواجہ سرا الماس کہتی ہیں کہ شریعہ کورٹ کے بعد تو الیکشن میں حصہ لینا برائے نام رہ گیا ہے کیونکہ ہمارے نادرا میں شناختی کارڈ بننے کا عمل رک گیا نہ نئے شناختی کارڈ بنا کر دیئے گئے اور جو بنے ہوئے تھے ان کو فریز کردیاگیا ۔

اب الیکشن کا مرحلہ آگے کیسے بڑھ سکتا ہے ؟

ادارہ شماریات کراچی کے ڈائریکٹر سے جب سندھ میں رہنے والے خواجہ سرائوں کی حالیہ آبادی سے متعلق سوال کیاگیاتو انہوں  نے کہاکہ اب تک ہمارا ڈیٹا کمپائل نہیں کیاگیا اور فلحال اس حوالے سے ہم کچھ بھی بتانے سے قاصر ہے۔

 نادرا کے حکام تو بارہا اس ضمن میں کال کی گئی واٹس ایپ اور موبائل فون پر میسیج کیاگیا کہ شرعی کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا آپ نے خواجہ سرا کے کارڈ بنانا بند کردیئے تو انہوں نے بھی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا           ۔

دستاویزات کے مطابق ملک بھر سے 3 ہزار 29 خواجہ سرا ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، 2018 کے انتخابات کی نسبت رجسٹرڈ خواجہ سرا ووٹرز کی تعداد میں ایک ہزار 116 کا اضافہ ہوا۔

اس وقت سب سے زیادہ رجسٹرڈ خواجہ سرا ووٹرز صوبہ پنجاب میں ہیں، پنجاب میں رجسڑڈ خواجہ ووٹرز کی کل تعداد 2200 ہے، 2018 کے انتخابات میں پنجاب میں رجسٹرڈ خواجہ سرا ووٹرز کی تعداد ایک ہزار 356 تھی۔

ڈائریکٹر الیکشن کمیشن بابر ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن جنس کی تفریق کے بغیر تمام اہل افراد کو ووٹ ڈالنے کا حق دیتا ہے،

خواجہ سراؤں کو اپنا ووٹ رجسٹرڈ کرانے کے لیے الیکشن کمیشن اقدامات کر رہا ہے، پولنگ ڈے پر بھی خواجہ سراؤں کو ووٹ ڈالنے کے لیے الیکشن کمیشن اقدامات کرے گا۔

 

شہزادی رائے نے تجویز دی ہے کہ اگر کل کوخواجہ سرا خواتین کی لائن میں کھڑے ہوتے ہیں تو انکو بھی اعتراض نہ ہو اور مردوں کی لائن میں کھڑے ہونا بھی  نہ مناسب نہ لگے ہماری پوری کوشش ہوگی کہ انکے لیے الگ قطار بنوانے کی مہم چلائی جائے۔

جہاں پر یہ مہذب انداز میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرسکیں۔انکا مزید کہناتھاکہ نگران حکومت ، سیاسی جماعتوں اور اہم اداروں کی جانب سے خواجہ سرائوں کے ووٹ کے عمل کے حوالے سے مہم چلانے کی بے حد ضرورت ہے

جس میں لوگ انکے حق رائے دہی کو معیوب نہ سمجھیں بلکہ انہیں تمام انسانوں کے وہی حقوق حاصل ہوں جو دیگر تمام لوگوں کوحاصل ہیں۔