نگراں وزیر قانون و انسانی حقوق عمر سومرو کا کہنا ہے
دوہزار تیرہ میں سندھ اسمبلی میں قانون پاس ہونے کے باوجود کم عمری کی
شادیاں ہورہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس حوالےسے اعدادوشمار خوفناک
ہیں۔
نجی ہوٹل میں "سندھ چائلڈمیرج ریسٹرین ایکٹ 2013 کے
نفاذ" کے عنوان سے پروگرام کا انعقادکیا گیا ۔
تقریب کے مہمان خصوصی نگراں وزیر قانون و انسانی حقوق محمد
عمر سومرو کا کہنا تھا سندھ میں قوانین تو ہیں مگر ان پر عمل
نہیں ہوتا۔اس حوالے سے اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کو صحیح شمار کریں
تو صورتحال بہت خوف ناک ہے۔
وزیر قانون و انسانی حقوق نے کہا کم عمر
ی میں شادی کی وجہ صرف غربت نہیں ۔اس کے خاتمے کے لیے ڈی سی لیول پر کام کرنا ہوگا
۔ اسے نصاب میں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی ہمیں
ساتھ لے کر چلنا ہوگا ۔اس کے بغیر ہم اس قانون پر عمل نہیں کرسکتے ۔ سندھ
میں ماہر نفسیات کی بھی کمی ہے