چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل ساڑھے11بجے تک ملتوی

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

چیف جسٹس  کی سربراہی میں  سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل ساڑھے11بجے تک ملتوی

چیف جسٹس  کی سربراہی میں  سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل ساڑھے11بجے تک ملتوی 

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیاکہ

اٹارنی جنرل   معاونت کریں کیا معاملہ ختم ہوگیا، 

یہ استعفٰی کونسل کارروائی کے آغاز میں نہیں دیا گیا، کونسل کی جانب سے شوکاز جاری کرنے کے بعد استعفیٰ دیا گیا،

ممکن ہے درخواستیں غلط ہوں اور جج نے دباو ٔپر استعفیٰ دیا ہو، 

جج کی جانب سے دباؤ پر استعفیٰ دینے سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا، 

یقینی طور پر جج کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی تو ختم ہو گئی، 

استعفیٰ دینا جج کا ذاتی فیصلہ ہے، 

ہمارے سامنے غیر معمولی صورتحال ہے، 

جج کی برطرفی کا سوال اب غیر متعلقہ ہوچکا ہے، 

ابھی تک کونسل نے صدر مملکت کو صرف رپورٹ بھیجی تھی، 

 الزامات ثابت ہوجاتے تو کونسل صدر  کو جج کی برطرفی کیلئے لکھتی،  

اس صورتحال پر آپ کی کیا رائے ہے، چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے استفسار


کونسل نے اب کوئی نا کوئی فائنڈنگ تو دینی ہے، 

 کوئی جج سپریم کورٹ کی ساکھ تباہ کر کے استعفیٰ دےجائے تو کیا اس سے خطرہ ہمیں نہیں ہو گا؟  

اپنی تباہ ساکھ کی سرجری کیسے کریں گے؟ 

کیا آئین کی دستاویز صرف ججز یا بیوروکریسی کے لیے ہے؟ 

آئین پاکستان عوام کے لیے ہے، 

عوامی اعتماد کا شفافیت سے براہ راست تعلق ہے، اٹارنی جنرل نے کہا

کونسل کے سامنے سوال یہ ہے کہ جج کے استعفے کا کارروائی پر اثر کیا ہو گا، اٹارنی جنرل  نے آگاہ کیا کہ

جج کو ہٹانے کا طریقہ کار رولز آف پروسجر 2005 میں درج ہے، 

سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے  جون 2023 میں  ایک فیصلہ دیا  تھا ، ل 

ل

کیس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کیخلاف شکایتی معلومات  کونسل کو بھیجی گئیں، 

کونسل میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے شکایت پر کارروائی نہیں کی، 

ثاقب نثار کیخلاف کارروائی نا ہونے پر آئینی درخواست 2020 میں دائر ہوئی، 

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف درخواست پر   فیصلہ 2023 میں ہوا، 

ثاقب نثار کے معاملے میں تو کارروائی شروع نہیں ہوئی تھی جبکہ اب ہو چکی، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ

اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے جس کا سامنا سپریم جوڈیشل کونسل کر رہی ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا

اس کا مطلب یہ نہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل رائے نہیں دے سکتی، چیف جسٹس کا استفسار

 کارروائی کے آخر دن جج کو برطرفی کا پتہ چل جائے اور وہ استعفیٰ دے جائے تو کیا ہو گا؟

اٹارنی جنرل کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟ 

اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ

کارروائی کے دوران جج کا استعفیٰ دے جانا اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، 

مظاہر نقوی چاہیں تو کونسل میں کل پیش ہو کر اپنا موقف دے سکتے ہیں،

 سابق جج مظاہر نقوی کے وکلاء نے وقت مانگا تو شکایت گزاروں کو سنا جائے گا،   

اگر  مظاہر نقوی نے   وقت طلب کیا تو  تب تک  گواہان کو  سن لیں گے،

جج اور سپریم کورٹ کی ساکھ کا سوال ہے، سربراہ کونسل چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی

کونسل کے ایک ممبر  نے   نوٹ لکھ کر کہا عجلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، 

یہ جسٹس اعجاز الاحسن کا حق ہے کہ وہ رائے دے سکیں، 

کوئی بھی ہمیں یہ نہیں بتا رہا جلد بازی کیسے کی گئی، چیف جسٹس پاکستان

ہم نے پہلے 14 دن کا وقت دیا،

پھر کہا الزامات کی تفصیلات فراہم کریں ہم  نے   مکمل تفصیل فراہم کی، 

پھر کہا گیا کونسل کی کارروائی اوپن کریں ہم نے کردی، چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیاکہ

سابق جج نے کافی خطوط بھی لکھے، 

سابق چیف جسٹس نے سابق جج کیخلاف شکایات کیلئے ایک سینئر جج کو معاملہ بھیجا،

اسی دوران عدالتی چھٹیاں آگئیں،

سینئر جج بیمار بھی رہے، 

2شکایات کا مکمل جائزہ لےکر اپنی رائے دی، 

ہمیں قانون کے مطابق کارروائی کیلئے طریقہ کار طے کر سکتے ہیں، 

ہمیں خود بھی الزامات سے بری کرنا ہے، 

سابق جج   نے جواب جمع کرانے کیلئے ایک ہفتہ مانگا ہم نے 2 ہفتے سے زائد کا وقت دیا، 

اگر ایک صاحب اب کونسل کی کارروائی میں نہیں آنا چاہتے ان کی مرضی  ، 

کسی کو آ کر خود بتانا چاہیے تھا کہ جج صاحب مستعفی ہو گئے ہیں، 

جج صاحب اپنے کسی نمائندے کو بھیج دیتے، 

اگر سابق جج  کونسل کی کارروائی میں حصہ لینا چاہیں تو لے سکتے ہیں، 

 سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس کل دن 11:30 بجے تک ملتوی  

جسٹس مظاہر نقوی اور ان کے وکیل کو کونسل کارروائی بارے آگاہ کیا جائے