وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ کا پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے دہلی گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول کے حافظ عبدالرافع کو دو لاکھ دینے کا اعلان کردیا سیکنڈ پوزیشن کو ڈیڑھ لاکھ اور تیسری پوزیشن والی طالبہ کو ایک لاکھ دینے کا بھی اعلان کیا
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی دہلی اسکول اولڈ بوائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب کراچی میٹرک بورڈ امتحانات میں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء کے اعزاز میں منعقد کی گئی۔
کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج نارتھ ناظم آباد کے آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی تقریب میں طلبہ و طالبات، اساتذہ، تعلیمی افسران و دیگر نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بچوں نے والدین کے ساتھ میرا بھی سر فخر سے بلند کیا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے ذمہ داری دیتے ہوۓ پوچھا کہ پہلا کام کیا کرو گے۔ میں نے چیئرمین سے کہا تھا کہ اپنی بیٹی کو سرکاری اسکولز میں داخل کروں گا۔ انکا کہناتھاکہ اپنے اسکولوں کو اون کرنا اپنی ذمہ داری کے طور پر میرا پہلا اصول تھا۔ سرکاری اسکول کے بچے نے پوزیشن حاصل کر کے ایک مثال قائم کی ہے۔ کراچی سمیت پورے سندھ میں اسکولز اس دھرتی کے صاحب حیثیت لوگوں نے بناۓ۔ سند مدرسہ، ڈائو یونیورسٹی جیسے ادارے یہاں کے لوگوں نے بناۓ۔ انگریزوں نے قانون بنایا کہ ادارے ان کے نام سے ہونے چائیں، اسی وجہ سے ان ناموں سے ادارے چلے۔ صوبائی وزیر کا کہناتھاکہ اسکولوں سے تعلیم کے بعد اپنے اسکول کو یاد رکھنے والے طلبہ کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔ مفت تعلیم کے آئینی وعدے کے باوجود بچے پیسے دے کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان اسکولوں کو اون کرنا ہوگا جن میں غریبوں کے بچے پڑھ رہے ہیں۔ تعلیم تب ہی صحیح ہو سکتی ہے جب سسٹم میں موجود افراد بچوں کو اپنے بچوں کی طرح دیکھیں گے محکمہ تعلیم روزگار دینے کا ذریعہ نہیں ہے۔انکا کہناتھاکہ محکمہ کے 92 فیصد وسائل صرف تنخواہوں پر خرچ ہوتے ہیں۔
اپوزیشن کی طرف سے آنے والی تجویز پر اسکول کو اون کرنے کے لیے خط لکھا۔ خوشی ہے، منتخب نمائندوں نے اسکول اون کرنا شروع کردیے ہیں۔ پرائیویٹ اسکول کے خلاف نہیں مگر والدین کے حق میں ضرور ہوں۔28 سال کے بعد سرکاری اسکول کی پوزیشن ایک نئی شروعات ہوئی ہے،