دریائے سندھ پر کینال اور زمینوں پر قبضے کے خلاف ہزاروں خواتین 17 نومبر کو کراچی میں مارچ کریں گی۔ سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

  دریائے سندھ پر کینال اور زمینوں پر قبضے کے خلاف ہزاروں خواتین 17 نومبر کو کراچی میں مارچ کریں گی۔  سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں


حکمرانوں کو سندھ کے چوری کئے گئے پانی کا حساب دینا ہوگا، سندھیانی تحریک 

سندھ کے عوام دریائے سندھ پر نئے کینال اور ڈیم بننے نہیں دیں گے، عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار

سندھ کی زمینیں غیر ملکی کمپنیوں کے بجائے سندھ کے بے زمین کسانوں اور خواتین کسانوں کو دی جائیں، سندھیانی تحریک 

روٹی کپڑا اور مکان کا نعرا دیکر دریائے سندھ، سندھ کی زمینیں اور وسائل نیلام کئے گئے ہیں۔  سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں۔ 

کراچی/ ملیر/ میمن گوٹھ سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں، عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، ایڈووکیٹ خالد تنیو، پرھ سومرو اور زبیر نوناری نے کراچی کے مختلف علاقوں میں گھر گھر جا کر 17 نومبر کو اعلان کردہ ریلی کی دعوتیں دی۔ رزاق آباد میں عوامی پریس کلب ملیر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، سندھیانی تحریک کی مرکزی صدر عمرہ سموں، پرھ سومرو، خالد تنیو نے کہا کہ دریائے سندھ، سندھ کا واحد ذریعہ معاش ہے۔  سندھ کے عوام دریائے سندھ کی فروخت کبھی برداشت نہیں کریں گے. پنجاب کے حکمران گذشتہ ڈیڑھ سو سال سے سندھ کا پانی چوری کر رہے ہیں۔ سندھ کے حصے کے تین دریا بھارت کو فرخت کرنے والا جنرل ایوب کا معاہدہ آبی دہشت گردی ہے۔  پنجاب اور بھارت کے حکمران مل جل کر سندھ کا پانی چوری کر رہے ہیں جس وجہ سے خوشحال اور سرسبز و شاداب سندھ بنجر ہو چکی ہے۔ ٹھٹہ، سجاول اور بدین میں لاکھوں ایکڑ زمینیں سمندر برد ہو چکی ہیں۔  لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرا دیکر دریائے سندھ، سندھ کی زمینیں اور وسائل نیلام کئے گئے ہیں۔ سندھ کا پانی روکنا سندھ پر ایٹمی حملے کے مترادف ہے۔  رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پانی کے معاملے پر سندھ کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا جائزہ لینے کے لیے ماحولیاتی اور آبی ماہرین اور اقوام متحدہ کے نمائندوں پر مشتمل بین الاقوامی غیر جانبدارانہ تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے۔  1945 کے سندھ پنجاب پانی معاھدے  کے مطابق  سندھ کو سندھ کے حصے کا پانی دیا جائے۔  ان کا کہنا تھا کہ ارسا ایکٹ میں ترمیم کرکے سندھ کا پانی مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا، دریائے سندھ کا پانی غیر ملکی کمپنیوں کو فروخت کیا جائے گا۔  پیپلز پارٹی اقتدار کے لالچ میں دریائے سندھ کو بیچ رہی ہے لیکن سندھ کے عوام دریا کو بچانے کے لیے پرامن جدوجہد کا دائرہ وسیع کریں گے۔  17 نومبر کو ہزاروں خواتین سندھ کے دریا، زمین اور وسائل کو بچانے کے لیے ریگل چوک سے کراچی پریس کلب تک شاندار مارچ کریں گی۔  ان کا مزید کہنا تھا کہ کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر سندھ سمیت ملک بھر کی زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔  کارپوریٹ فارمنگ کے منصوبوں کو پانی فراہم کرنے کے لیے سندھ کا پانی روک کر سندھ کی زرخیز زمینوں کو بنجر بنا دیا جائے گا۔  دوسری جانب عوامی تحریک کے مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار اور ایڈووکیٹ خالد تنیو نے ابراہیم حیدری میں پاکستان فشر فوک فور کے چیئرمین مہران سندھی، حاجی شفیع محمد جاموٹ کے صاحبزادے سہیل جاموٹ اور دیگر کو ریلی میں شرکت کیلئے مدعو کیا۔