اوشین مال کلفٹن میں چار روزہ سولویں ’’سرتیون سنگ کرافٹس‘‘ نمائش کا افتتاح

عرفان علی عرفان علی

اوشین مال کلفٹن میں چار روزہ سولویں ’’سرتیون سنگ کرافٹس‘‘ نمائش کا افتتاح


صوبائی وزیر سید ناصر شاہ نے کراچی میں سولویں چار روزہ سرتیون سنگ کرافٹس نمائش کا افتتاح کیا*


کراچی: صوبائی وزیر توانائی و پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سندھ، سید ناصر حسین شاہ نے کراچی کے اوشین مال کلفٹن میں چار روزہ سولویں ’’سرتیون سنگ کرافٹس‘‘ نمائش کا افتتاح کیا۔

 چار روزہ نمائش کا انعقاد سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن ( سرسو ) نے سندھ حکومت اور اس کے شراکت داروں کے اشتراک سے کیا ہے جس میں سندھ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والی تقریباً 3,545 ہنر مند خواتین کے کام کی نمائش کی گئی ہے جس کا مقصد دیہی خواتین اور ہنر مند خواتین کو مارکیٹ سے رابطہ فراہم کرنا ہے۔ 

افتتاحی تقریب دوران صوبائی وزیر نے سرسو کی جانب سے سندھ کی دیہی ، غریب اور بے سہارا کمیونٹی كو مالی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے کی گئی کوششوں کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی سندھ کی دیہی برادریوں کے لیے ایسا جذبہ جاری رکھا جائے گا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے زور دے کر کہا "ہم سب کو اپنے اپنے علاقوں میں خواتین کو درپیش مسائل كو حل کرنے کیلئے بہت زیادہ عملی کام کرنا ہے ، زمینی سطح پر خواتین کو پیش آنے والے مسائل کو سمجھنے کے لیے بہت عملی ہونے کی ضرورت ہے اور ان کو حل کرنے کے طریقے میں حصہ لینا چاہیے كیونكہ اسی طرح سے ہی تبدیلیاں آئیں گی۔"


صوبائی وزیر نے کہا کہ سندھ کی ہنر مند خواتین کو ای کامرس کے ذریعے دنیا بھر سے جوڑا جا رہا ہے۔ صوبائی وزیر کے مطابق دستکاری اور فن پارے مختلف ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے پروگرام منعقد ہونے چاہیں ۔ ایسے پلیٹ فارم مقامی کاریگروں کو اپنی مصنوعات کی مارکیٹنگ میں مدد دیتے ہیں۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کاریگروں کے کام کو ختم نہ ہونے دے اور دستکاری بنانے کے لیے درکار محنتی کام کی تعریف کرے۔


 سرسو کی نمائش کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دستکاروں، دستکاریوں اور سندھ کی ثقافت کو فروغ دینے کے لیے اس طرح کی سرگرمی کا اہتمام سرسو کی طرف سے ایک بہترین کاوش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاریگر اپنی پوری زندگی شاہکاروں کی تیاری کے لیے وقف کر دیتے ہیں، لیکن کراچی جیسے شہری مراکز میں ان کے کام کو کبھی سراہا نہیں جاتا، "تاہم یہ سرگرمیاں یقیناً سندھ کی دستکاری کو روشنی میں لائیں گی۔

سرسو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، محمد ڈتل کلہوڑو نے کہا کہ نمائش کا مقصد دیہی سندھ کی خواتین کاریگروں کے لیے بہتر آمدنی میں سہولت فراہم کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ سرسو کہ 15 آپریشنل اضلاع میں 316 بزنس ڈویلپمنٹ گروپ (BDGs) بنائے گئے ہیں جن میں 6,065 خواتین ممبر کاریگر مختلف مہارتوں سے لیس کردی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ  سرسو ان BDGs کی مصنوعات کو سرتیون سنگ انٹرپرائز کے ذریعے مارکیٹ کرتا ہے۔




 "ہم نے جیکب آباد، کندھ کوٹ-کشمور، شکارپور،لاڑکانہ، نوشھروفیروز، گھوٹکی، قمبر-شہداد کوٹ، بدین، ٹھٹہ, سانگھڑ، عمرکوٹ، خیرپور اور سکھر اضلاع کے انتہائی پسماندہ علاقوں سے ہزاروں خواتین کو تربیت دی ہے تاکہ ان خواتین کو ان کی مہارتوں سے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنے میں مدد مل سکے ۔

سی ای او کلہوڑو نے کہاکہ  "مارکیٹ میں دستیاب چیزوں سے اپنے کام کو الگ کرنے کے لیے ہم نے کچھ رجحانات متعارف کرائے ہیں تاکہ ان كو مارکٹ میں زیادہ پزیرائی مل سکے.

سرسو کے زیر اهتمام سرتیوں سنگ نمائش کا انعقاد اخلاقی فیشن کی حمایت کرنے اور صوبے کی سب سے پسماندہ خواتین کے دستکاری کو فروغ دینے کے مقصد سے کیا جا رہا ہے۔ تقریب میں کلفٹن اور آس پاس کے علاقوں کی خواتین کی بڑی تعداد نے بھی شرکت کی جہاں سندھی ثقافت کے تمام اجزاء موجود ہیں۔ شاندار روایتی دستکاریوں کی نمائش میں دیہی خواتین کے تیار کردہ سندھ کے دستکاری کے وسیع مرکب کی نمائش  میں گھریلو ٹیکسٹائل، ٹوکری، زیورات، کپڑے، رلی، اجرک، دوپٹے، شالوں سمیت 5800 مصنوعات شامل ہیں جو روایتی کڑھائی اور کٹ ورک سے مزین ہیں۔ ان تقریبات کا مقصد مقامی دستکاریوں کو فروغ دینا اور ہمارے بزنس ڈویلپمنٹ گروپس (BDGs) اور کاریگروں کو کراچی کی اعلیٰ مارکیٹ سے مربوط کرنے کے لیے ایک مضبوط عمل شروع کرنا تھا۔ یہ خالصتاً دیہی خواتین خصوصاً شمالی سندھ کے انتہائی دور دراز دیہات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے لیے مارکیٹ کے مواقع پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے اور ان نمائشوں سے حاصل ہونے والا منافع ان کاریگروں کو منتقل کیا جاتا ہے۔

اس موقع پر ایم پی اے سادیہ جاوید، شیرین ناریجو، ڈاکٹر مصطفیٰ سھاگ اور دیگر موجود تھے۔