ڈاکٹر آکاش انصاری کی شاعری نے بغاوت کے شعور کو لفظوں میں ڈھال کر خوابوں کو حقیقت بنانے کا حوصلہ دیا

عرفان علی عرفان علی

ڈاکٹر آکاش انصاری  کی شاعری نے بغاوت کے شعور کو لفظوں میں ڈھال کر خوابوں کو حقیقت بنانے کا حوصلہ دیا

ڈاکٹر آکاش انصاری  کی شاعری نے بغاوت کے شعور کو لفظوں میں ڈھال کر خوابوں کو حقیقت بنانے کا حوصلہ دیا


سوشل میڈیا آج اسکی تصاویر ، لکھی نظموں ،غزلوں اور گیتوں سے سجانظر آیا ۔ہر کسی نے ان سے اپنی محبت کا اظہار کیا ۔ کسی نے شعر لکھے کسی نے انکی تصویر شیئر کی تو کسی نے ان لکھے اور گائے گیتوں کو سوشل میڈیا کی زینت بنائے رکھا۔ 


هن دل ڪرڻ ٿي چاهيا تونسان جهيڙا 

پر دل وري چيو ائين تونسان حساب ڪهڙا 

آڪاش انصاري


 کاش اسے کوئی یہ بتا سکتا !سندھ سے وہ جتنی محبت کرتا تھا اس سے کہیں ذیادہ اس کے فن اور فکر سے لوگ عشق کرتےتھے۔وہ جگنوئوں  کے دیس جا بسا، پچھے رہنے والے بس آہیں سسکیاں  بھرتے روتے رہ گئے۔


اسان جو جڏھين خون خوشبو ٿي ايندو،

تہ ويڙھا وطن جا بہ واسي ڇڏيندو،

جڏھين ٻارڙي ڪنھن، ڪئي ٻولي ٻاتي،

تہ ماڻيندا منزل پنھنجا ڍول ڍاٽي

آڪاش انصاري


آکاش انصاری صرف شاعر ہی نہیں تھے بلکہ وہ آواز تھے جنہوں نے انقلاب کی باگ ڈور محبت کے دل میں سنبھالی تھی، جس نے بغاوت کے شعور کو لفظوں میں ڈھال کر خوابوں کو حقیقت بنانے کا حوصلہ دیا۔ ان کی شاعری میں محبت کی نزاکت کے ساتھ ظلم کے خلاف بغاوت کا واضح اظہار تھا۔ ڈاکٹر آکاش انصاری صرف ایک شاعر نہیں تھا بلکہ ایک تحریک، ایک آواز اور ایک امید تھا۔

 فیس بک پر کی گئی تمام پوسٹیں اس بات کی غمازی کرتی نظر آتی ہیں  کہ ڈاکٹر آکاش انصاری سندھ کا سچا عاشق تھا ۔ جس نے ننگے پیروں، درد میں لپیٹے لہجوں ،حق اور سچ  کو بے دردی کچلنے والے نظام سےمتعلق لکھا ۔ 

آکاش انصاری نہ صرف شاعر تھے بلکہ ایک مفکر، انقلابی آواز تھے جنہوں نے ہمیشہ سچ بولا۔ ان کی شاعری میں محبت ہی نہیں، بغاوت، امید بھی تھی اور سندھ کے سنہرے رنگ بھی اس میں سمائے ہوئے تھے۔ ان کے جانے سے سندھی شاعری میں انقلابی اور جذباتی شاعری کا ایک اہم باب بند ہو گیا ہے۔ جسم کو جلایا جا سکتا ہے، لیکن ان کے خیالات اور شاعری کو نہیں، آکاش انصاری کا انتقال سندھی زبان و ادب کا بہت بڑا نقصان ہے۔ 

اس نے لکھا منزل کی جستجو کرنے  والے کبھی کٹھن راستوں کی پرواہ نہیں کرتے۔ وہ دہکتے کوئلوں، ٹوٹے شیشوں پر ننگے پیروں سے چلنے کا ہنر بخوبی جانتا تھا۔ 

اسے مساوات پسند تھی۔ وہ برابری کا قائل تھا ۔ظلم ، جبر اور ذیادتی کے لیے اس کا قلم کسی تلوار سے کم نہ تھا ۔ اس نے جو بھی لکھا دل سے لکھا۔ 

اس نے جب جب بھی قلم اٹھایا ۔ اس نے سندھ کی وہ داستانیں لکھیں جو تاریخ، مستقبل اور موجودہ حالات کی عکاسی کرتی تھی۔آکاش انصاری سندھ کا عاشق تھا ۔ سندھ  میں رچنے بسنے والے تمام افراد سے بے لوث محبت کرتےہیں ۔ اس کسان پسند  تھے، مزدور پسند تھے سندھ کی دھرتی سے جڑی ہر چیز سے وہ انتہا درجے کا عشق کرتا تھا۔

 اس کی عبادت سندھ تھی۔ انہوں نے شاعری کے ذریعے لوگوں کے مسائل کو اجاگر کیا اور دائیں بازو کی سیاست کو بے نقاب کرنے میں کبھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ ان کی شاعری عام لوگوں کو جگانے کے لیے تھی، ان کا قلم حکمرانوں کی کرپشن، ظالمانہ نظام اور ناانصافی کے خلاف تیز تلوار کا کام کر رہا تھا۔ ۔ ڈاکٹر آکاش کی شاعری نے خاص طور پر نوجوانوں کو بہت متاثر کیا، اور وہ اتنی طاقتور آواز  بن گئے تھے انکے نظریات اور سوچ  سے بااثر افراد خوف میں مبتلا رہنےلگے تھے۔

آکاش انصاری نوجوانوں کے لیے روشنی کا مینار تھے، ان کے جانے سے سندھی ادب میں نئی لہر کو سہارا دینے والا ہاتھ کم ہو گیا ہے۔ سندھی ادب کو ہمیشہ ایسے شاعروں کی ضرورت رہے گی جو لوگوں کے دلوں تک پہنچ سکیں اور آکاش انصاری اس کی بہترین مثال تھے۔ آکاش کی شاعری مظلوموں، کسانوں، مزدوروں اور عام آدمی کے درد کا اظہار تھی، ان کے جانے سے یہ آواز کمزور پڑ گئی ہے۔


موت محبوب جيئن مون کي مرڪي چيو

ڀلي اڃان ڪجھ جيو ڀلي اڃان ڪجھ جيو

موت مون کي چيو مان تہ ماري ميان

سنڌ جو ڪيئن ٿيان پر مياري ميان

جا متان پوءِ چوي منھنجو آڪاش ويو

ڀلي اڃان ڪجھ جيو ڀلي اڃان ڪجھ جيو.!!