دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ گرین پاکستان ہے یا گریڈپاکستان ، ماہر آبی امور ڈاکٹر حسن عباس

عمران عمران

دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ گرین پاکستان ہے یا گریڈپاکستان ، ماہر آبی امور ڈاکٹر حسن عباس

دریائے سندھ سے چھ نئی نہریں نکالنے کا منصوبہ گرین پاکستان ہے یا گریڈپاکستان ، ماہر آبی امور ڈاکٹر حسن عباس


ماہر آبی امور ڈاکٹر حسن عباس کہتےہیں کہ 

سندھ کے لوگ جو کر رہے ہیں اعتراض، I am very happy کہ وہ organized لوگ ہیں سندھ کے کلچر جو ہے وہ بہت strong ہے very strong culture in the region not just within Pakistan لیکن region میں ایک بہت strong culture ہے these people are connected with each other اور ان کے کلچر میں river is their life blood تو چاہے کوئی بندہ ڈیلٹا میں رہ رہے ہیں چاہے کوئی بندہ up north پنوں عاقل میں رہ رہے ہیں ماہر آبی امور ڈاکٹر حسن عباس کہتےہیں کہ 

اس کو پتا ہے کہ ریور کے ساتھ ہمارے کلچر کے کیا کنیکشن ہے۔ تو اس لیے جب سندھ والے بول رہے ہیں تو وہ آرگنائز طریقے سے بول رہے ہیں، ان کی ساری سیاسی جماعتیں ساتھ ہیں، ان کی لیڈرشپ ساتھ ہے۔ فکر کی وہاں پہ یہ بات آ گئی ہے


کہ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ کنال بنیں گی اور پنجاب کے حصے کا پانی ان کنالز میں جائے گا اور نیچے کارپریٹ فارمنگ کو ملے گا وہ کہہ رہے ہیں ہماری کنالز جو سلمان کی ایڈمک سے نکل رہی ہیں ان میں تو پانی پورا نہیں آتا تو باقی کیسے آئے گا جو ہمیں جو پانی مل رہا ہے وہ بھی پورا نہیں مل رہا ٹیل پر پانی پہنچ ہی نہیں رہا تو اس کا مطلب ہے جہاں تک پہنچ رہا ہے ادھر بھی نہیں پہنچے گا کیونکہ اب تو وہ کارپریٹ فارمنگ کو مل جائےگا 

ابھی گرین پاکستان کے ہی جو کرتا گھرتا ہیں ان سے کسی صاحب کی کوئی بحث ہو رہی تھی کوئی ان سے بات چیت ہو رہی تھی ماہر آبی امور ڈاکٹر حسن عباس کہتےہیں کہ 

تو انہوں نے کہا یہ سندھ والے خام خواہ ابجیکٹ کر رہے ہیں یہ تو ہر سال ستائیس میلین ایکڑ فٹ  پانی سمندر میں پھینک دیتے ہیں جبکہ ان کو انٹرنیشنل رپورٹ کہتی ہے کہ صرف ساڑھے آٹھ میلین ایکڑ فٹ  کی ضرورت ہے اور ان کا ڈیلٹا ٹھیک ہو جائے گا اور وہ جو پانی پھینک دیتے ہیں سمندر میں ہم تو کہتے ہیں کہ وہ ہمیں دے دو تاکہ ہماری کنال سے چال پڑے


تو وہ صاحب مجھے کہتے ہیں کہ جب انہوں نے مجھے یہ آرگومنٹ دیا تو میرے پاس اس کا کوئی وہ جواب نہیں تھا میں نے کہا یہاں اس کا جواب تو بڑا سمپل ہے آپ ان سے پوچھیں کہ اگر وہ کہتے ہیں اپنے منہ  سے کہ ستائیس میلین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں پھینک دیتے ہیں سندھ والے اور آٹھ سے ڈیلٹا ٹھیک ہو جائے گا تو ستائیس سے ٹھیک کیوں نہیں ہو رہا ستائیس جا رہا ہے انہی کے مطابق جو کہتے ہیں آٹھ سے ٹھیک ہو جائے گا ستائیس کے گزرنے پر رورہے ہیں اس سے ڈیلٹا کی تباہی سب ہی کے سامنے ہے۔ جب آٹھ گزرنا شروع ہوجائے تو ٹھیک ہوجائے گا تو مطلب ہے کہ کہیں پے بھی اگر آپ ان کو دیکھیں نا تو ان کی وہ ایکویشن بیلیس ہوتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ جتنی بھی ابھی تک انگریز کے زمانے سے نکالی گئی ہیں۔ انڈس بیسن میں ہندوستان پاکستان کے اور ابھی وہ افغانستان والے بھی لگے ہوئے ہیں یہ سارا کچھ ملا کے پچاس سے زیادہ میجر کنال کمانز ہیں۔ ماہر آبی امور ڈاکٹر حسن عباس نے بتایا کہ 

پچاس سے زیادہ میجر کنال کمانڈز کا مطلب ہے کہ آپ کا تقریباً دریا خالی ہو جاتا ہے اور ڈیلٹا پہ کچھ بھی نہیں پہنچتا اور ڈیلٹا کو صرف پانی نہیں چاہیے ڈیلٹا کو ساتھ ریت اور مٹی بھی چاہیے کیونکہ ultimately ڈیلٹا ریت اور مٹی سے بنتا ہے سمندر کی ویوز آ کے اس کے ساتھ ٹکراتی ہیں تو ریت اور مٹی کو وہ اپنے ساتھ سمندر میں لے جاتی ہیں


اور اوپر سے اور ریت اور مٹی آ جاتی ہے۔ 1830s تک this delta was actually reclaiming the sea یہ advanced کر رہا تھا۔ تو جب سے یہ 5-6 dams بنے ہیں انڈیا اور پاکستان میں ملا کے اس کے بعد سے تو silt جو mountain میں سے نکلتی تھی وہ ساری dams میں trap ہو گئے۔ تو دریا بغیر silt کے نکلتا ہے۔ وہ جو پانی پہنچتا ہے اس میں silt کی وہ quality اور quantity ہے ہی نہیں جس نے اس delta کو بنایا تھا۔


تو اب نہ ادھر مینگروف لگے گا بھلے آپ ادھر پانی پہنچا بھی دیں فیزبل پروجیکٹ نہیں ہیں آپ جاتے ہیں کہ جی میں چولیستان میں کنال بنا رہا ہوں تو مجھے اس کے لیے کلائمیٹ فنڈ مل جائے کیونکہ میں کو گرین کروں گا چیزوں کو


آپ کو کبھی بھی نہیں ملے گا. Because this is not the kind of projects which is environment friendly. آپ تو دریا سے پانی نکال رہے ہیں. ہمیں تو دریا میں پانی واپس چاہیے. ہمیں mangrove واپس چاہیے. Mangrove forest by the way جو کے Indus Delta میں لگتا ہے اس کی جو carbon sequestration کی capacity ہے per unit area. It is seven times more than a rain forest. Mangrove is a very special plant. You had

دنیا کا پانچویں بڑا میگرو فورست انڈس ڈیلٹا میں تھا

جو اب تقریباً اپنے اوریجنل سائز کا ٹین پرسنٹ رہے گا تو آپ تو اسی کو مزید تباہ کر رہے ہو تو ادھر وہ بےوقوف تو نہیں بیٹھے ہوئے کہ وہ آپ کو کہیں گے اوہ اپکا اتنا بڑا سلاب آیا تھا آپ بہت مظلوم ہو تو اس لیے ہم آپ کو کلائمیٹ فنڈ دے دیتے ہیں ایسے نہیں کلائمیٹ فنڈ ملتے ہیں تو ہم تو یہ کہتے ہیں کہ بھئی آپ دریاؤں کو کھلا چھوڑ دو دریاؤں کا راستہ خالی کر دو اس سے پہلے کہ دریاؤں خود توڑے


اس وقت Indus is one of the most special rivers in the world in terms of its groundwater storage. Groundwater storage Indus کے بیچ میں ایک بہت محتاط اندازے کے مطابق جو Indus کے rivers کا bed ہے planes کے بیچ میں یعنی ذریعہ کا جو part ہے اس کے نیچے جو ریت ہے اور اس ریت کے بیچ میں جو بھرا ہوا پانی ہے وہ تقریباً پانچ سو میلین ایکر فٹ کی storage ہے آپ کے پاس اور وہ drinking quality کا پانی ہے


پانچ سو میلین ایکڑ فٹ کتنا ہوتا ہے آپ تربیلہ تقریباً چھ میلین ایکر پانچ سو کی میں بات کر رہوں گا دیمر باشا بہت بڑا بنے گا سیون ٹو ایٹ ادھر فائیو ہنڈرڈ یہ نیچر کی بنائی ہوئی سٹورنج ہے


تربیلہ منگلہ تین مہینے کی ان میں اسٹیمنہ نہیں تھا وہ خالی ہو گئے ہیں نیچر نے جو سٹوریج بنایا ہے وہ خالی نہیں ہے اس میں بھی بھی پانی ہے اور یہ ہی ان کے ساتھ بھی ہوگا یہ کنال بنا کر لے آتے ہیں اور ان کے کنال میں پانی بھی چھ سال کے بعد آنا ہے تو چلتی ہوئی کنال میں تو پھر وہ کچھ دن نکال جائے گی ان کی تو اسے پہلے کے کنال میں پانی ہے


جتنا مرضی آپ ادھر بلڈوزر پھیر لیں وہ ایولین انڈوارمنٹ ہے جس سکیل کے اوپر نیچر کی فورسز آپریٹ کر رہی ہیں جس نے اتنا بڑا ڈیزرٹ وہاں پہ کریٹ کی ہے آپ ان فورسز میں چار بلڈوزر نہیں کھڑے کرسکتے نہ چار سو بلڈوزر سے وہ رکے گا نہ چار ہزار بلڈوزر اس کو رک سکتے ہیں۔


وہ تو سینڈ اڑے گی اور اس سے پہلے کہ آپ کی کناز جو ہیں انہیں 6 سال کے بعد پانی آئے مومند اور دوسرا ڈیم بننے کے بعد دیما باشر آپ کی کناز ریت کے بیچ میں بریڈ ہوں گی پانی کی کونٹیٹی کوالٹی کے حساب سے آپ نے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ میں نے کتنے علاقے کو استعمال کرنا ہے اپنے ایگری کلچر کے لیے اب ان کی جو سٹارٹ ہے وہی الٹ ہے انہوں نے علاقے پہلے


جو ہے وہ acquire کر لی ہیں اور اب سوچ رہے ہیں کہ اس علاقے میں کتنے پانی کی ضرورت ہو گی اور وہ پانی کیسے لائیں. This is how the things should have moved لیکن یہ الٹے طریقے سے move ہو گئی چیزیں کہ آپ نے پہلے زمین لے لی زمین کی جو ہے وہ آپ نے تقسیم بھی شروع کر دی اس میں plotting بھی کر دی اب سوچنا شروع کیا کہ جی پانی کہاں سے لے کے آئے گی. پانی کا ابھی جو ان کا اس وقت کا پلان ہے جو میری اطلاع کے مطابق اس وقت جو ان کا لیٹس چل رہا ہے


اور اس کی اطلاع مجھے اس طرح سے ملتی ہے کہ کچھ لوگ جو وہاں پہ investment کے لیے اپنی خواہش ظاہر کرتے ہیں ان کو وہ بلاتے ہیں اور ان کو مختلف قسم کی presentations دیتے ہیں کہ یہ یہ terms and conditions ہوں گی یہ یہ ہمارے investment models ہیں


اس طرح کے علاقے ہیں اور اس میں جب وہ پانی کی بات کرتے ہیں تو ابھی آج کل اس وقت وہ لوگوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ ہماری یہاں پہ ایک چولستان کنال بننے جا رہی ہے جس میں 4000 کیوسک کے لگ بھگ پانی دریائے ستلج سے نکلے گا


وہ چلتی ہوئی کنال آکے دو برانچز میں تقسیم ہوگی انہوں نے ایک ایسٹرن بلاک لے رکھا ہے چولستان میں جو تقریباً کوئی سوہ تین لاکھ ایکڑکا ہے دوسرا انہوں نے کوئی چار لاکھ ایکڑ کا پلٹ لے رکھا ہے جس کے بیچ پر پھر انہوں نے کوئی پلٹنگ بلاک وغیرہ کی ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ کنال دو ہی سو میں بٹے گی


اور اس کے بیچ میں جو ان کے نقشے اس وقت وہ دکھا رہے ہیں انویسٹرز کو اس میں سیدھی سٹریٹ لائنز ہیں کنال جو ہیں وہ جیسی اپنی علاقے میں داخل ہوتی ہے تو اس کے ڈسٹریبوشن سسٹم میں ان سٹریٹ لائنز رننگ نورد ساؤتھ اور ایسٹ ویسٹ


اب اگر کنال کی آپ بات کریں تو کنال تو چلتی ہے گریوٹی کے اوپر اور جس علاقے میں وہ کنال لے کے جا رہے ہیں وہ علاقہ سموتھ نہیں ہے وہ ایولین انڈوارمنٹ ہے ریگستان کا علاقہ ہے جس میں آپ کے جو، جو لینڈ فارم ہے


یہ ایر ونڈ ڈپوزیٹس ہیں اس میں ڈیونز ہیں اور ڈیونز بھی سٹیٹک نہیں ہیں، ڈینامک لینڈسکیپ ہے کنال کا موڈل تو چلتا ہے پلین اور سٹیٹک لینڈسکیپ میں جو کہ بسیکلی الویل لینڈ فارم ہوتی ہے جو پانی نے بچھایا ہوتا ہے جب پانی بچھاتا ہے تو وہ اپنے سلوپ کے ساتھ اس کو بلکل لیول کردیتے ہیں کیونکہ پانی سطح ہموار رکھتے ہیں


انگریز نے جتنی کناز بنائی ہیں اس نے پلینز آف پنجاب اور پلینز آف سندھ میں اور جہاں پہ اس کو پلینز ملے کے پی کے وغیرہ میں اور ایسی جگہوں پہ ادھر اس نے وہ کنالز بنائی یہ بنانے جا رہے ہیں ڈیزرٹ میں


اب پہلی چیز تو یہ سمجھ نہیں آتی کہ اگر میں ایک منٹ کے لیے فرض کرلوں گے کہ کنال میں پانی آ گیا کنال بن گئی تو اس کے بعد جب پانی پہنچا تو پانی تو ادھر چلی نہیں سکتا کیونکہ وہاں کی تو سلوپ سے آپ کو اجازت نہیں دیتی اور وہ بھی ایسے نہیں کہ آپ نے پلوٹس کو سیدھا کرنا ہے آپ نے پورے علاقے کا گریڈینٹ اس کو لیول کرنا ہے


پھر آپ کہتے ہیں جی ہم وہ بڑا ذرخیز علاقہ ہے کیونکہ وہ سوئلز ورجن ہیں اس کے اوپر ابھی تک ایریگیشن نہیں ہوئی ایگری کلچر نہیں ہوا تو بڑی ادر سے جانا میں بمپر کرافٹ میں لیکن جب آپ اس کے اوپر بلڈوزر پھیریں گے تو وہ جس ورجنیٹی کی اور جس آپ سوئل ہیلتھ کی بات کر رہے ہیں وہ تو ہوگی نہیں


تو مطلب ہے کہ ایک کے بعد دوسری مارکٹ دوسری کے بعد تیسری مارکٹ یہ کدھر بیٹھ کے انہیں پالسیاں بنائیں اور کہاں سے آئیں یہ پالسیاں یہ دوزار تئیس کی بات ہے یہ جولائی میں میرے خیال میں انہوں نے اس کو فارملی لانچ کیا تھا گرین پاکستان انیشیئیٹیو کو اور اگست میں ان کو واپڈا والوں نے ایک پریزنٹیشن دی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دیمر باشا ڈیم اور مومر ڈیم جب بن جائیں گے تو ہمارے پاس فالتو پانی آ جائے گی


اور اس فالتو پانی کو ہم چولستان پہنچا دیں گے اس کے لیے ہم جو لنک کنالز ہیں اب مزید کی یہ بات کہ میں ساتھ ساتھ یہ بھی چیزیں کلیر کرتا جاؤں سندھ والوں کو اس چیز کا خوف ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کم ہوگا جس کے کونسیکونس میں سندھ میں پانی کم ہوگا ڈیلٹا پہ پانی کم ہوگا اور وہ کمپین چل رہی ہے اب یہ جو مومنڈ ڈیم اور دیمر باشا ڈیم ہیں یہ دونوں انڈس کے اوپر بن رہے ہیں وہ دریائے سوات پہ بن رہے ہیں مومنڈ


اس کا مطلب ہے کہ پانی فیرک انڈرس میں سے کم ہوگا چناب یا جیلم میں سے کم نہیں ہوگا جب ان ڈیموں سے پانی ڈیورٹ ہو ڈیورژن کے لیے ان کی کینالز ہیں چشمہ جیلم لنک کینالز سے وہ جیلم میں آئے گا پھر جیلم کے بعد کینالز ہیں جو اس کو چناب کے ساتھ ملاتی ہیں چناب راوی کے ساتھ ملتا ہے اور راوی ستلچ کے ساتھ ملتا ہے


اب اس کے لیے جو لنک کینالز بنی ہوئی ہیں اس وابڈا کے پروپوزل میں ان لنک کینالز کو ری موڈل کیا جائے گا to take additional water پھر وہ additional water جس وقت پہنچے گا سلمان کی headworks پہ تو پھر جو یہ چولستان کینال بنا رہے ہیں جو کہ سلمان کی headworks سے نکلتی ہے


پلان کے مطابق پھر اس میں یہ پانی پہنچے گا تو اب آپ دیکھیں کہ یہ تقریباً کوئی ہزار سے پندرہ سو کلو میٹر کا سفر طے کر کے یہ پانی سلیمان کی پہنچے گا چھ سال کے بعد اگر وہ ڈیم کھڑے ہو گئے اب اگر یہ ڈیم کھڑے ہو گئے تو چھ سال کے بعد پانی پہنچے گا اور چھ سال کے بعد وہ کہتے ہیں کہ جی آپ ان چھ سال سے پہلے پہلے آپ اپنی کنال بنا لیں


تاکہ جیسے ہی پانی پہنچی ہم پانی کو کنال میں چلا دیں تو چھ سال کے بعد وہ جو پلوٹنگ کر رہے ہیں جو بندر بانٹ کر رہے ہیں اس جگہ کی جس کے بیچ میں انہوں نے سٹریٹ لائنز کی کنال اس وقت لوگوں کو نقشے میں دکھا رہے ہیں ادھر پانی نے ایکچولی پہنچنا چھ سال کے بعد اور یہ لوگوں کو کہتے ہیں آپ ہم سے زمین لے لو تین سال تاک آپ اس زمین کو ڈویلپ کرو اور تین سال تاک ہم آپ سے کچھ ہی نہیں لیں گے تیسے سال سے آپ نے اس کو ہمیں قریہ دینا ہوگا


جس کی ترمز اینڈ کنڈیشن ہے مختلف قسم کی کہ جی آپ نے کتنا دینا ہے تین سال کے بعد تو چھ سال کے بعد ان کے پانی نے پہنچنا ہے وہ تین سال کس چیز پر ان کو کس چیز کا قرایہ دیں گے تو یہ بڑی عجیب چیزیں چال رہی ہیں یہ نہیں کہ مجھے نہیں سمجھ جا رہی کہ سوچنے والا بیک اینڈ کی اوپر کون ہے اور ان ٹاپ آف ایٹ وہی جو کہ بھئی ٹھیک ہے سوچنے والا جو بھی اپروف کرنے والا کون ہے وہ مراسی کو کہتے ہیں تجھے لیا کون تھا ماہر آبی امور ڈاکٹر حسن عباس کہتےہیں کہ 

مجھے آئنسٹائن کی ایک بڑی کال یاد آ جاتا ہے اس سے اس سے کہا تھا The world is being run with stupidity, fear and greed. یہ تینوں چیزیں ہر پروجیکٹ میں مجھے نظر آ رہی ہیں. Green Pakistan ہو یا Greed Pakistan ہو. ہر پروجیکٹ اسی سے بنا ہواہے۔