عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری اور مرکزی قیادت کی مشترکہ پریس کانفرنس

چہرہ ڈیسک چہرہ ڈیسک

   عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری اور مرکزی قیادت کی مشترکہ پریس کانفرنس




عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری اور مرکزی قیادت کی مشترکہ پریس کانفرنس



آج عوامی تحریک کی مرکزی کونسل کا ہنگامی اجلاس محترم رسول بخش پلیجو صاحب کی رہائش گاہ، ڈی ٹین پلیجو ہاؤس قاسم آباد، حیدرآباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں مرکزی قیادت اور سندھ بھر سے مرکزی کونسل کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں سندھ بھر میں کینالوں اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف جاری جدوجہد کے حوالے سے غور و فکر کر کے اہم فیصلے کیے گئے۔


کینالوں اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف گذشتہ تین دنوں سے ببرلوء بائی پاس پر وکلاء کی طرف سے جاری دھرنے میں میں خود، عوامی تحریک اور سندھیانی تحریک کی مرکزی قیادت اور کارکنان مسلسل شریک رہے ہیں۔ آج بھی عوامی تحریک کے مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہيسر سندھیانی تحریک کی خواتین اور پارٹی کارکنان کے ہمراہ دھرنے میں شریک ہیں۔


آج صبح وکلاء کے دھرنے پر فائرنگ کی گئی ہے، جو سندھ، ملک، آئین، قانون اور جمہوریت دشمن عمل ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ اس پرامن دھرنے میں وکلاء کے ساتھ معصوم بچے، لڑکیاں، خواتین، ہاری، مزدور، مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے کارکنان، ادیب، دانشور، شاعر، صحافی، اساتذہ، طلباء، تاجر اور آبادگار شامل ہیں۔ کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے، تمام افراد پرامن احتجاج میں شریک ہیں۔


ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت سندھ، وفاق اور پنجاب کے حکمران ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سندھ کے عوام کی پرامن جمہوری جدوجہد کو کچلنے، مختلف ہتھکنڈوں سے ناکام بنانے اور پرتشدد بنانے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ حکومت ہر شہری کو جانی و مالی تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے۔ باوجود اس کے کہ سندھ حکومت کو معلوم تھا کہ سندھ کے لوگ پرامن دھرنا دیے بیٹھے ہیں، اس نے دھرنے کے شرکاء کی سیکورٹی کا کوئی بندوبست نہیں کیا۔ اس غیر قانونی رویے کا وزیراعلیٰ سندھ کو جواب دینا ہوگا، اور ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر کو فوری طور پر برطرف کیا جائے، دھرنے کی سیکورٹی کا ہنگامی بنیادوں پر بندوبست کیا جائے۔


عوامی تحریک سمجھتی ہے کہ کینالوں کے ساتھ ساتھ کارپوریٹ فارمنگ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ جو صرف کینالوں کی بات کرتا ہے اور کارپوریٹ فارمنگ پر خاموش ہے، وہ اصل حقیقت سے منہ موڑ رہا ہے۔ سابقہ پی ڈی ایم حکومت میں بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیمی بل 2023 کو باقاعدہ قانونی شکل دی گئی۔ کارپوریٹ فارمنگ، چھے نئے کینال، SIFC اور گرین انیشی ایٹو پاکستان کے منصوبے بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیمی ایکٹ 2023 کا حصہ ہیں۔ یہ ایکٹ ملک دشمن اور کالا قانون ہے، جسے کوئی بھی محب وطن جمہوریت پسند شخص قبول نہیں کرے گا۔


پیپلز پارٹی اور دیگر اقتداری پارٹیاں اسمبلیوں میں کینالوں کے مسئلے پر قراردادیں بحال کروانے کے ڈرامے بند کریں۔ وفاقی وزیر رانا ثناءاللہ اور شرجیل میمن کے درمیان کینالوں کے معاملے پر کسی قسم کی گفتگو کی اطلاعات ہیں۔ عوامی تحریک سمجھتی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، ان کی قیادت پر کسی بھی محب وطن شہری کو اعتبار نہیں ہے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیمی ایکٹ 2023 جیسے ملک دشمن قانون کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔


عوامی تحریک کینالوں اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف پہلے دن سے احتجاج میں مصروف ہے۔ جس دن سے بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیمی بل 2023 قانون بنا، اُس دن سے عوامی تحریک نے جدوجہد جاری رکھی ہے. سیمینارز، مظاہرے، احتجاجی ریلیاں، بھوک ہڑتالیں، دھرنے۔ آج اس جدوجہد کے نتیجے میں پورا سندھ سراپا احتجاج ہے۔ سندھ کے معصوم بچے، طلباء، اساتذہ، ہاری، مزدور، تاجر، ادیب، دانشور، شاعر، صحافی اور وکلاء پرامن جمہوری جدوجہد کے میدان میں ہیں۔


عوامی تحریک ببرلوء پر دھرنا دینے والے وکلاء اور سندھ بھر کے پرامن جدوجہد کرنے والے عوام کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ عوامی تحریک سندھ کے عوام کو پیغام دیتی ہے کہ صرف پرامن جمہوری جدوجہد ہی دشمن قوتوں کو شکست دے سکتی ہے۔ کسی بھی منفی پروپیگنڈے یا پرتشدد سازش کا شکار نہ ہوں، اور اپنی جدوجہد کو مزید مضبوط بنائیں۔


عوامی تحریک کے مرکزی کائونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کینالوں اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف ببرلوء بائی پاس پر وکلاء کے دھرنے میں عوامی تحریک اور سندھیانی تحریک کی خواتین روزانہ کی بنیاد پر بھرپور شرکت کریں گی۔


عوامی تحریک سمجھتی ہے کہ CCI (کونسل آف کامن انٹرسٹ) میں صرف پنجاب کی اکثریت ہے، جس کے ذریعے صوبوں کی قسمت کے فیصلے کیے جاتے ہیں اور چھوٹے صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ CCI کی تشکیل برابری کی بنیاد پر کی جائے۔



اجلاس میں فیصل کیا گیا کہ چھے نئے کینالوں اور کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف درج ذیل تاریخوں کو مختلف علاقوں میں احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی: 


23 اپریل: سانگی پھرهو، 25 اپریل: کھور واه، 26 اپریل: بچل ڪلوئي جھڊو، 27 اپریل: مويا شھر، 28 اپريل: دمبالو ٽنڊو غلام علي، 29 اپريل: عثمان شاهه هڑي ٽنڈو الهيار، یکم مئی: ننگرپارکر، 2 مئی: ڈهرڪي، 3 مئی: ريتي، 4 مئی: شڪارپور اور 10 مئی: لاڑکانہ میں احتجاجی مظاہرے کیئے جائے گیں.  عوامی تحریک سندھ کے عوام کو ان احتجاجی ریلیوں میں بھرپور شرکت کی دعوت دیتی ہے۔ اجلاس میں مزید فیصلا کیا گیا کہ عوامی تحریک کے سربراہ محترم رسول بخش پلیجو صاحب کی ساتویں برسی کے موقع پر 21 جون کو منگر خان گاؤں، جنگشاہی میں ہزاروں افراد کا ملک گیر جلسہ ہوگا، جس میں ملک بھر کی محب وطن سیاسی قیادت، سماجی شخصیات، ادیب، دانشور، شاعر، ہاری اور مزدور رہنماؤں کو مدعو کیا جائے گا. 


پریس کانفرنس میں نور احمد کاتیار، ستار رند، عمرہ سموں، لال جروار، عبدالقادر رانٹو، ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی، ڈاکٹر دلدار لغاری، راحیل بھٹون، نور نبی پلیجو، ڈاکٹر ماروی سندھو، حسنہ راہوجو، پرھ سومرو، بختاور ملاح، کائنات ڈاهری، کونج لاشاری، زاہدہ لاشاری، عبدالرحمٰن سموں، ایاز کوسو، مختیار خاصخیلی، اظہار داؤد پوٹو، میر پرویز داؤد پوٹو، حسین سومرو اور دیگر رہنما موجود تھے.