کراچی سی او او واٹر کارپوریشن انجینئر اسداللہ خان نے جامعہ کراچی کے قریب سائفن 19 میں پانی کی لائنوں کے پھٹنے کی وجوہات اور مرمتی اقدامات سے متعلق ایک تفصیلی ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی جامعہ کراچی کے قریب سائفن 19 میں موجود پانی کی لائنیں کئی دہائیاں پرانی ہیں جن میں ایک لائن 1956 جبکہ دوسری لائن 1971 میں بچھائی گئی تھی ان لائنوں کو بالترتیب 69 اور 54 سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے اور ان کا متعین لائف ٹائم مکمل ہو چکا ہے انہوں نے بتایا کہ جامعہ کراچی کے قریب سائفن 19 میں 84 انچ ڈایا پی آر سی سی کی دو لائنیں ہیں جن میں ایک لائن کی لمبائی 16 ہزار فٹ یعنی پانچ کلومیٹر ہے سائفن 19 کا آغاز سعدی ٹاؤن سے ہوتا ہے اور یہ یونیورسٹی روڈ تک جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ سائفن میں یو شیپ لائنز کی موجودگی پانی کے دباؤ میں اضافے کا سبب بنتی ہے اور ان یو شیپ لائنز میں بہنے والا پانی عام سیدھی کنڈیوٹ لائنز کے مقابلے میں کہیں زیادہ دباؤ پیدا کرتا ہے نتیجتاً پرانی اور کمزور پائپ لائنیں اس زیادہ دباؤ کو برداشت نہیں کر پاتیں جس کے باعث دباؤ بڑھنے پر لائنیں پھٹ جاتی ہیں سی او او نے وضاحت کی کہ دھابیجی سے کراچی تک آنے والی پائپ لائنیں سیدھی کنڈیوٹ کے راستے آتی ہیں اور ان پر یو شیپ لائنز والا دباؤ نہیں پڑتا یہی وجہ ہے کہ وہ محفوظ رہتی ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ سائفن 19 میں متاثرہ پی آر سی سی لائن کی جگہ ایم ایس پائپ نصب کیا جا رہا ہے اور پائپ کے دونوں اطراف چار چار ٹن سِکا 300 ڈگری سینٹی گریڈ پر گرم کرکے ڈالا جائے گا تاکہ پائپ لائن کی مضبوطی اور پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے انہوں نے امید ظاہر کی کہ انشاء اللہ مرمتی کام ہفتے کی شام تک مکمل کرلیا جائے گا جس کے بعد پانی کی ترسیل معمول پر آ جائے گی