کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب ماریا شہباز کیس کے فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں کا تحفظات کا اظہار

عرفان علی عرفان علی

کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلی مذہب  ماریا شہباز کیس کے فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں کا تحفظات کا اظہار


کراچی: انسانی حقوق کے علمبرداروں اور اقلیتی برادری کی خواتین رہنماؤں نے 'ماریا شہباز کیس' میں عدالتی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے قانون سازی کی روح کے منافی قرار دے دیا ہے۔


کراچی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہرے کے دوران مقررین نے وفاقی اور پنجاب حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کے لیے فوری رجوع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ویمن پاسٹر کونسل کی چیئرپرسن پاسٹر غزالہ شفیق، معروف سماجی کارکن شیما کرمانی، لیوپ وکٹر ایڈووکیٹ اور ہندو کمیونٹی کی رہنما منگلا شرما نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

عدالت کا یہ موقف کہ 'کم عمری کی شادی جرم ہے لیکن نکاح بذاتِ خود درست ہے' انتہائی متضاد اور غیر معمولی ہے۔

اس قسم کے فیصلے بچوں کی شادی کے خلاف موجود قوانین کو بے معنی بنا دیتے ہیں۔

کیس میں کمسن بچی کے مبینہ مذہب کی تبدیلی کو تسلیم کر لینا بھی سوالیہ نشان ہے۔

مطالبات:

انسانی حقوق کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:

جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔

اقلیتی برادری کی کمسن بچیوں کو فوری اور مؤثر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔

'ماریا شہباز کیس' کے حالیہ فیصلے پر اعلیٰ عدالتی فورمز پر فوری نظرثانی کی جائے۔

پریس کانفرنس کے بعد خواتین پاسٹر کونسل، سول سوسائٹی اور اقلیتی تنظیموں کے ارکان نے پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ بھی کیا، جس میں عدالتی فیصلے کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور حکام سے انصاف کی اپیل کی گئی۔