موسیقی کا ایک عہد ختم ہوا

عرفان علی عرفان علی

موسیقی کا ایک عہد ختم ہوا

ایک خوبصورت من کوبھانے والی آواز ہمیشہ کےلیے ہم سے جدا ہوگئی  ہندی سینما کی لیجنڈ گلوکارہ لتا منگیشکر  92 سال میں دنیا سے رخصت ہوگئ۔



کورونا جیسے موذی مرض نے لتا منگیشکر کو بھی نہ بخشا لتا منگیشکر  کورونا سے متاثر ہوئی تھیں۔ ہندوستان کے شہر ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں انہیں رکھاگیا تھا۔

لتا نے کئی زبانوں میں گیت گا کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ۔لتا کے 1000سے زائد ہندی فلموں میں گانے ریکارڈ کئےگئےہیں۔

لتا منگیشکر 28 نومبر 1921 کو پیداہوئیں۔بچپن سے اپنی سریلی آواز کی وجہ سے لوگوں کی توجہ کا مرکز تھی۔انڈین فلموں میں انکے نام کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔انہیں ہندوستان کے پدم بھوشن ،دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سمیت کئی قومی فلم ایوارڈز سے نوازہ گیا۔ان کا نام گنیز بک ریکارڈ میں بھی شامل کیا جا چکاہے۔کم عمری میں ہی انہوں والد کی رحلت کے بعد اپنے خاندان کو سبھالا۔

لتا نہ صرف ایک بہترین گلوکارہ تھیں بلکہ اس سے کہیں ذیادہ وہ ایک پیار کرنے والی شخصیت تھی جنہیں ہر کوئی بےحد پسند کرتاتھا۔

لتا منگیشکر نے اے میرے وطن کےلوگو جیسے ترانےریکارڈ کراکے اپنے آپ کو امر کردیا تھا۔

معروف مصنف اور میوزک سے لچسپی رکھنےوالے سلطان ارشد خان کا کہناہےکہ 1942 سے  لتا منگیشکر نے اپنے فن کا آغاز ایک مراٹھی فلم سے کیا۔انکی آواز ہمیشہ ہمیشہ اپنے سروں کے ذریعے ہمارے ذہنوں پر طاری رہے گی ۔انکی یادیں کبھی بھی ذہنوں سے مٹنے والےنہیں آج بھی ٹیلی ویژن کے مختلف میوزک کے پروگرام میں نئی نسل جو بھی گیت گارہے ہیں اس میں ذیادہ تر لتا منگیشکر کے ہیں اور وہ انتہائی محبت اور عقیدت کے ساتھ یہ گیت گاتے ہیں۔برصغیر میں جب تک  موسیقی کی بات ہوگئی لتا کا نام لازمی آئے گااور بہت خوبصورت الفاظ اور حوالوں میں آئےگا۔

ان کا کہنا تھاکہ لتا منگیشکر کی تین بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔مینا آشا اور اوشا منگیشکر  بہنیں ہیں ۔چھوٹے بھائی کو وہ میوزک کا پنڈٹ کہتی تھی اسے سراہاتی تھی مانتی تھیں۔ والد بھی فلموں میں اداکاری اور گلوکاری کیا کرتے تھے انکے فوت ہونے کے بعد ساری فیملی کو انہوں نے تیرہ سال کی عمر سے سبھالنا شروع کیاتھا۔

لتا منگیشکر نے مراٹھی اور سندھی فلموں میں بھی بطور اداکارہ کے طورپر بھی کام کیا۔

 

لتا منگیشکر کو محل فلم کے گیت آئےگا آنے والا سے  شہرت ملی بعد ازاں 1949 سے جو کامیاب گیتوں کا سلسلہ شروع ہوا وہ پھر چلتارہا جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکے گاؕ

صرف موسیقار اوپی نیئر کے ساتھ انہوں نے کام نہیں کیا۔8 ہزار کے قریب انہیوں نے گیت ریکارڈ کرائے انہوں نے جتنا بھی کام کیا کمال کام کیا اعلیٰ کام کیا۔میڈیم نورجہاں بھی لتا منگیشکر کی بڑی پرستار تھی دونوں میں ملاقات سرحد پر ہوئی تھیں بعد میں لندن میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ وہ ملی ۔70 کی دہائی میں میڈیم نورجہاں انڈیا گئی تھیں جہاں پر وہ لتا جی سے ملی۔دونوں برصغیر کی مقبول گلوکارہ تھیں۔موسیقار مدھن کے حوالے سے  کہا جاتا تھا کہ لتا منگیشکر مدھن کے لیے اس دنیا میں آئی ہیں یا مدھن کا کام لتا منگیشکر کے لیے بنا ہے۔انکی اردو صاف خوبصورت آواز سب کو بھا جاتی تھی۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف سینئر اداکار بہروز سبزواری کہتےہیں کہ ہر نفس کو موت کامزہ چھکنا ہےلیکن انکی عاجزی انکساری کام اور لوگوں کے ساتھ رویہ کردار کام کسی بھی چیز کو بھولایا نہیں جاسکتاہے انہوں نے ہمیشہ پاکستان کے معروف گلوکار میڈیم نورجہاں ، مہدی حسن ،غلام علی ، استاد امانت علی خان  اور فنکاروں کو دل سے سراہا میڈیم نورجہاں کے پیر چھوتی تھیں ان سےپیار کرتی تھیں ان کاخیال رکھتی تھی اس سے بڑی بات کیا ہےؕ

بھارتی مشہور شاعر اور نغمہ نگار جاوید اختر کہتے ہیں لتا منگیشکر خاموش طبیعت کسی کو ایک بار دیکھ لیے اسے کے بارے میں بہتریں باتیں بتاتی تھیں ہمیشہ سب کو عزت دیتی تھی سب کا خیال رکھتی تھی۔نرم لہجہ نفاست شائستگی ان سے کوئی سیکھے۔کسی سے بھی کم بات کرتی تھی لیکن جو بات  کرتی اتنے شاندار اور اعلیٰ انداز میں کرتی تھیں جسے کبھی بھی بھلایا نہیں جاسکتا۔


لتا منگیشکر جیسا نہ پہلے کبھی تھا نہ بعد میں آئے گا وہ اپنے کام اعلیٰ تھی جسے وہ کام کرتی تھی اسے بہتر کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا تھا جہاں پر تمام مہارت ختم ہوجائے وہ اس درجے پر پہنچ کرکام کیا کرتی تھی ایک شخص کے گزرجانے کے بعد اس کے بارے مین  ہم تمام لوگ اچھی اچھی باتیں تو کرتے ہیں لیکن انکے بارے میں صرف یہ کہناوہ اچھی تھی بلکل نہیں وہ واقعی کمال کی خاتوں تھیں اور اعلیٰ خوبیوں کی مالک تھیں۔