کراچی سندھ سانا کانفرنس خواتین اور انسانی ترقی کا خواب کے موضوع پرمذاکرہ

عرفان علی عرفان علی

کراچی سندھ سانا کانفرنس خواتین اور انسانی ترقی کا خواب کے موضوع پرمذاکرہ

کراچی میں سانا کانفرنس کا انعقاد کیاگیا جس میں مختلف سیشنز رکھے گئے تھے

جس میں پہلا سیشن سندھ میں انسانی ترقی کی صورتحال کے عنوان سے ہوا 


جبکہ دوسرا سیشن سندھ میں خواتین کو بااختیار بنانے اور انسانی ترقی کے عنوان سے سیشن ہوا

جس میں وائس پریذیڈنٹ شاہدہ شیخ،درشہوار،ناہیدہ شاہ،ایڈوڈکیٹ شازیہ نظامانی ،عائشہ دھاریجو ،زہرہ نور،ماہ نورشیخ اور امر سندھو نے اپنے خیالات کا اظہار کیا مہمان خصوصی صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی نے کہا کہ سندھ سے دور رہ کر سندھ کا سوچنا بہت بڑی بات ہے۔


سانا بہترین کام کر رہا ہے ملک سے دور رہ کر بھی ہم سب کو بھی اپنے کاموں میں بہتری لانے کی گنجائش ہے۔


سندھ کی عورت سندھ کے مرد سے ذیادہ باشعور با صلاحیت اور قابل رہی ہے 
سندھ میں بے نظیربھٹو شہید اور فہمیدہ مرزا جیسی بیٹیاں پیدا کیں ۔انکا کہنا تھا کہ
میں ہمیشہ مثبت سوچتی ہوں محنت کے بغیر کچھ نہیں  ہوسکتا اورہم نے اپنی سوچ بدلنی ہے سلطانہ صدیقی نے سندھی زبان میں تمام مذاکرے کے انعقاد پر کہاکہ 
مجھے بہت اچھا لگا اپنی یعنی سندھی زبان میں بات ہو رہی ہے 
جب ہم مشترکہ طور پر کسی مسئلے پر اکھٹے ہونگے تو مسائل حل ہونگے


ہمیں اپنے معاشرے کےلیے کام کرنا ہوگا 
میڈیا ایک بہت بڑا سبجیکٹ ہے 
جس میں ذہن تبدیل کئے جاتے ہے


سوشل میڈیا ڈیجیٹل میڈیا نے لوگوں کو ڈرا دیا ہے 


حکومت کے پاس جابز نہیں ہمیں خود اچھا کام کرنا ہوگا


عورتوں کو جاب دینی ہوگی اسمبلی میں سیٹیں بڑھانے ہوگی 


سندھ حکومت پالیسی میں جس طرح آگے ہے اس طرح خواتین کی سیٹیں بڑھانی ہونگی


ہمارے چینل میں 33 فی صد خواتین کام کرتی ہیں 


غلط کام کو عمل کو روکنا ہوگا تربیت کرنی ہوگی


محنت ذیادہ کرنی ہوگی تب ترقی ہوگی خوشحالی ہوگی 


پروفیشنل تعلیم یافتہ لڑکیوں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے 
ہم سب مل کر سب اچھا اور ٹھیک کرسکتے ہیں

دیہی خواتین اور انسانی ترقی کا خواب کے موضوع سمیت دیگر موضوعات پر شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کیاوائس پریذیڈنٹ  ویمن سانا
شاہدہ شیخ  نے کہاکہ 
ہمارے پاس سندھ کی باصلاحیت   خواتی ہے سیاست سماجی دیگر شعبوں میں بہترین کام کر رہی ہے ہمیں
تمام خواتین برابری کے حقوق دینے چاہیے ہمارے دیہات کی خاتون ہنر مند با صلاحیت ہے
گوٹھ میں کشیدہ کاری کی ہنرمند خواتین کی صلاحیتوں اور کام کو سراہا یا جاتا ہے 
انہیں پچیس فی صد معاوضہ بھی نہیں ملتا ہماری کوشش ہےکہ انکے کام کو کینیڈا امریکہ میں  متعارف کرائے ہمارے یہاں 
خواتین کے ساتھ نہ انصافی ہوتی یےکم عمر میں شادی اور زبردستی شادی تمام زیادتیوں کا ازالہ کیا جانا چاہیے فاطمہ فورڑو کیس ہمارے سامنے ہے ایسی کئی فاطمہ کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے ہے قانون ہے لیکن انصاف نہیں 
کمیونٹی بہت  اہم کردار ادا کر سکتی ہے انہیں ایکشن  لینا چاہیے 
ایڈووکیٹ شازیہ نظامانی نے کہاکہ
اہم مسئلہ ہے خواتین کے حوالے اعدادوشمار کے مطابق جینڈر بیس ولائنس کے حوالے سے یہ تمام کیسسز رپورٹ ہوئے ہے 
اس سے کہیں زیادہ کیسسز رپورٹ نہیں ہوتے ہیں 
غیرت کے نام پر قتل اس پر قانون بن چکا ہے اب یہ قتل ہے فیملی نہیں آتی ہے تو اسٹیٹ حرکت میں آتی ہے کیس داخل ہوتے ہیں 
شریعت میں دیعت کی وجہ مجرم کو سزا نہیں ملتی ہے 
سزا پہلے سے ہمارے معاشرے میں نہیں ملتی سندھ میں  قانون سازی کے حوالے سے دو ہزار اٹھارہ سے لیکر اب تک سب سے بہتر قانون سازی ہوئی ہے
معاشرتی حوالے سے کیس رپورٹ نہیں ہوتے پولیس تحقیقات کمزور ہے 
عورت جو اسکول کالج یونیورسٹی جاتی ہے انکو ہراساں کیا جاتا ہے باہر بھیڑیئے بیٹھے ہیں وہ بھیڑیئے کون ہےہم انسانی ترقی کی بات کرتے ہیں  
قانون اچھا ہے رولز اچھے ہے اپنے مردوں کے کچھ رویے ایسے آجاتے ہیں پڑھے لکھے لوگ سب ذمہ دار ہے 
آئین پاکستان میں ہمیں برابری کے حقوق حاصل ہے لوکل گورنمنٹ سے لیکر پارلیمنٹ تک ہم کام کرسکتی ہے ریاست کی ذمہ داری ہے ہمیں تحفظ فراہم کریں 
چادر چار دیواری میں بند ویکٹم بلمنگ کے سلسلہ کی طرف چلا جاتا ہے کہاجاتا ہمارے معاشرے میں 
عورتیں کپڑے ایسے پہنتی ہے جس پر مرد کے جذبات شدت میں آتے ہیں 
شازیہ خالد کا واقعہ ہوا تھا سوئی میں اس وقت کے آمر نے کہا تھا اگر خواتین کے ساتھ ایسے واقعات ہوتے ہیں تو اسکی وہ خود زمہ دار ہے 
 سندھ سہائی کےنام سے 
عائشہ دھاریجو نے ایک ادارہ قائم کیا ہے جس میں  
  غیرت کے نام پر قتل بچوں کی شادی یا ذیادتی کے واقعات پر ہم کام کرتے ہیں ۔
جو لوگ تعلیم یافتہ شائستہ ہے وہاں سے بھی  ایسے کیسسز آتے ہیں  
ہمارے پاس ایسے کیسز آتے ہیں خاندان میں بھی ایسے واقعات ہوتے عزت کا مسئلہ غیرت کا مسئلہ لیکن انہیں ایڈرس نہیں کیا جاتاہے ہمارے یہاں 
سہولیات نہیں حقوق نہیں جس رشتے میں ہے وہ حق حاصل ہےمرضی کی شادی کی اجازت نہیں جاگیردارنظام ہے 
پوری سندھ کو مفلوج کردیا ہے کاروکاری کے فیصلے یہی کرتے ہیں 
پلاننگ کے تحت واقعات ہوتے ہیں 
ایسے رویے چلے آرہے ہیں 
تحقیقات ٹھیک نہیں ہوتی ہیں
سوشل میڈیا الیکٹرونک میڈیا فیسٹول سیمینارز ہوتے ہیں 
عورت کے ساتھ جو سلوک کیا جاتا ہے برداشت کے قابل نہیں 
پرائمری لیول تک تعلیم ہماری بچیوں کو دی جاتی ہے 
آج کی عورت اس پوزیشن پر کھڑی ہے جہاں وہ سوال کرتی ہے 
ایشوز کیا ہے بچوں کو بتایا جائے 
ظلم  جو ہوا وہ شاہ گھرانے میں ہوا فاطمہ کے ساتھ آج حنا شاہ قید ہے انہی کی فیملی کی خاتون جیل میں ہے سسٹم کا معاملہ ہے والدین کو وہاں کھڑے ہونے کی اجازت دیتا ہے کہ نہیں 
بدترین 2023  سال خواتین کے حوالے سے بدترین تھا
مرد کے خلاف نہیں ہم سوچ کے خلاف ہے پدرشاہی سوچ کے خلاف ہے 
ان حقوق حصول کےلیے آپ ہمارے ساتھ ضرور کھڑے ہونگے 
ماہ نورشیخ  نے کہاکہ ہم نے نوشہروفیروزمیں ہم نے اسکول کھولا ہے
نوجوان جو کام کررہے ہنگامی صورتحال میں وہ بہت بڑی بات ہے
ہمارے اسکول میں دو سے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں 
خود پڑھ رہے ہیں پڑھا بھی رہے ہیں 
ان کے اندر شعور اجاگر کیا گیا ہےجس طرح آپ کے لیے تعلیم ضروری ہے ویسے ہی لڑکیوں کی تعلیم ضروری ہے 
اکنامی کو بہتر کام کر رہے ہیں 

زہرہ خان نے کہاکہ

جاگیر دارانہ نظام ہمیں  غلام بناتاہے
خواتین کے اور اقلیتوں کودیکھ کر کسی بھی معاشرے کا ۔
جینڈر ایشوہے رول یہ ہے ڈکٹیکٹ  کیاجاتا ہے 
گھر میں غلام بننے کی تربیت اچھی طرح سے دی جاتی ہے 
ورک پلیس کام کی جگہوں پر جو کچھ ہوتا ہے وہ رپورٹ نہیں ہوتا قانون بن گئے لیکن اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا 
اسمبلیوں میں تعداد بڑھائی جائے فیصلوں میں انہیں شمار کیا جائے 
امر سندھو نے کہاکہ
سندھ میڈیا واچ رپورٹ کرینگے
روزانہ سندھ کے اندر تین خواتین ماری جاتی ہے

سماجی ذہنی پسماندگی سب سے بڑا دشمن ہےہمارے معاشرے کا

واقعے کے خلاف آواز اٹھنی چاہیے