صحافی اور صحافتی اداروں کو غیر قانونی دباؤ سے آزاد کریں

عرفان علی عرفان علی

 صحافی اور صحافتی اداروں کو غیر قانونی دباؤ سے آزاد کریں

ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں آزادی اظہار رائے کے لئے آئینی و قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور نامساعد حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر ایمنڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا پاکستان میں صحافی اور صحافتی ادارے کٹھن حالات سے گزر رہے ہیں۔ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے ٹیلی ویژن پروگراموں کو رکوانا نشریات بند کرانا،

 صحافیوں کی برطرفی کے لئے غیر ضروری دباؤ اور غیر قانونی مطالبات سمیت متعدد پابندیوں اور چینلجز کا سامنا رہا ہے اور اس میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ صحافیوں بالخصوص خواتین صحافیوں کی کردار کشی بھی اسی مہم کا حصہ ہے۔ جس میں سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی شامل ہیں۔ ان تمام چیزوں کا مقصد صحافیوں کو دباؤ میں لاکر اظہار رائے پر قدغن لگانا ہے۔ ایمنڈ نے کہا ہے کہ صحافیوں کو ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی جانب سے نوٹسز کا اجراء اور سوشل میڈیا پر غیر قانونی پابندیاں،

اہم مواقع پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند کرنا متعدد سیاسی اور غیر سیاسی سرگرمیوں کی کوریج رکوانا، پیمرا کے غیر قانونی نوٹسز سب کا مقصد عوام کو معلومات کے حق سے محروم رکھنا ہے۔ جو جمہوری معاشروں کی روح کے صریحاً خلاف ہے۔ صحافیوں کے اغواء جبری گمشدگیوں اور جھوٹے مقدمات کی بھی ایک طویل فہرست ہے۔ جس سے ملک میں صحافیوں کو درپیش چیلنجز کی عکاسی ہوتی ہے۔ ایمنڈ نے کہا کہ پاکستان صحافیوں کے لئے ان خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے جہاں اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران متعدد صحافی شہید اور تاحیات معذوری کا شکار ہوئے۔ ان تمام صحافیوں کی قربانیوں نے ہمارے ارادوں اور عزم کو مزید مستحکم کیا ہے۔ ا

یمنڈ نے کہا ہے کہ آزاد اور ذمہ دار میڈیا ریاست اور اس کے تمام اداروں اور عوام کے مفاد میں ہے۔ میڈیا پر قدغنیں لگانے والوں کو پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ تاریخ کا یہ سبق سب کو یاد رکھنا چاہیئے۔

ایمنڈ نے صدر، وزیر اعظم پاکستان تمام ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

 پرنٹ الیکٹرانک اور بالخصوص سوشل میڈیا سے متعلق کسی بھی قانون سازی سے قبل ایڈیٹرز، نیوز ڈائریکٹرز اور صحافتی تنظیموں سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کا راستہ بند کریں۔

 صحافی اور صحافتی اداروں کو غیر قانونی دباؤ سے آزاد کریں تاکہ وہ غیر جانبدرانہ اور شفاف ماحول میں اپنے فرائض سرانجام دے سکیں۔