غیرقانونی ہائیڈرنٹس کےذریعےپانی فروخت کرنےکےخلاف درخواست پرسماعت نمٹادی گئی

عرفان علی عرفان علی

غیرقانونی ہائیڈرنٹس کےذریعےپانی فروخت کرنےکےخلاف درخواست پرسماعت نمٹادی گئی


سندھ ہائی کورٹ  میں شہرمیں چلنےوالےغیرقانونی ہائیڈرنٹس کےذریعےپانی فروخت کرنےکےخلاف درخواست پرسماعت نمٹادی گئی

وکیل  درخواست گزارکا موقف تھا سال 2023میں واٹرکارپوریشن نےسپریم کورٹ کےفیصلےکےخلاف اقدام کرکےمزید 7سپورڑنگ ہائیڈرنٹس قائم کردئیے۔ سپریم کورٹ کا سال 2016کےفیصلےمیں صرف 7ہائیڈرنٹس کےذریعےپانی فروخت کرنےکی اجازت تھی۔ لیکن اسکےباوجود شہرمیں مزید ہائیڈرنٹس بنادئیےگئے۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا شہرمیں 7واٹراینڈ سیوریج کارپوریشن کےذریعےہائیڈرنٹس چل رہےہیں۔

جسٹس صلاح الدین پنہورنےسینئروکیل سےسوال کیا ۔۔۔آپ سپریم کورٹ کےفیصلےکےخلاف درخواست سندھ ہائی کورٹ میں کیسےداخل کرسکتےہیں۔ ؟

وکیل درخواست گزارنے کہامعاملہ نچلی سطح کا ہےاس لئےپہلےدرخواست پہلےیہاں دائرکی ہے۔

جسٹس صلاح الدین  نےریمارکس دئے آپ سپریم کورٹ سےرجور کریں اورچاہیں توتوہین عدالت کی درخواست دائرکریں۔

مزید خبریں