گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ بلدیاتی ترمیمی بل اعتراضات لگاکرواپس کر دیا۔

عرفان علی عرفان علی

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ بلدیاتی ترمیمی بل اعتراضات لگاکرواپس کر دیا۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ بلدیاتی ترمیمی بل اعتراضات لگاکرواپس کر دیا۔اعتراضات میں کہاگیا کہ ڈی ایم سی کے خاتمے سے کوآرڈینیشن کے مسائل ہوں گے۔کونسل کیسے غیر منتخب شخص کو مئیر،ڈپٹی مئیر ،چئیرمین وائس چئیرمین منتخب کر سکتا ہے ؟ترمیم سے میونسپل کارپوریشن غیر منقولہ پراپرٹی ٹیکس سے محروم ہو جائے گی جس کے نتیجے میں شدید مالی بحران پیدا ہو جائے گا

گورنرسندھ  عمران اسماعیل کی جانب سے بل پر لگائے گئے اعتراضات میں کہا گیا کہ بلدیاتی حکومتوں میں خفیہ رائے شماری سے ہارس ٹریڈنگ کا دروازہ کھلے گا ۔ سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی بل 2021 سے بلدیاتی امور میں سندھ حکومت کی مداخلت بڑھ گئی ہے ،ترمیمی بل کا نوٹفکیشن آئین کے خلاف ہے۔کوئی دیہی علاقہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کا حصہ نہیں ہو سکتا۔ دودھ کی سپلائی اسکیم،میرج، برتھ اور ڈیتھ رجسٹریشن کا اختیار لینا بھی آئین کی خلاف ورزی ہے۔ ہر صوبہ، قانون کے ذریعے بلدیاتی حکومت کا نظام قائم کرنے کی پابند ہے ۔اعتراضات میں کہا گیا کہ منتخب اراکین کو سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں سونپی جانی چائیےسندھ اسمبلی بل پر دوبارہ غور کرے