کراچی میں
سرگرم اسٹریٹ کرمنلز کا نشے میں دھت ہو کر وارداتیں کرنے کا انکشاف ۔
شہر میں دوران لوٹ مار شہریوں کے ہلاک وزخمی
ہونے کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں۔۔۔؟
پولیس
نے کھوج لگا لیا۔
اسٹریٹ کرائم کے دوران ایک ہی انداز میں قتل
ہونے والے افراد سے متعلق تحقیقات کی گئیں تو حقائق سامنے
آگئے۔
کراچی میں رواں سال اسٹریٹ کرمنلز اب تک دو چار نہیں بلکہ 86 افراد کو گولیاں مار کر موت کی نیند سلاچکے ہیں۔۔۔
منگھوپیر میں نوجوان کامران چانڈیو۔۔۔فرنٹئیر
کالو نی میں محنت کش اشفاق ،سپر ہائی وے
بس اڈے پر بائیکیا رائیڈر اور گلستان جوہر میں
کڈنی سینٹر کے ایچ آر منیجر ذیشان
۔
کراچی میں
چھینا جھپٹی کے دوران قتل کی یہ
وارداتیں ایک ہی انداز میں انجام دی گئیں اوران
افراد سر میں گولی مار کر قتل کیا
گیا
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ
اسٹریٹ کرمنلز نشے میں دھت ہوکر وارداتیں کرتے ہیں،
متعدد اسٹریٹ کرمنلز نے دوران تفتیش بتایا کہ پکڑے جانے کی صورت میں شہری ان پر بدترین تشدد کرتے ہیں ، مار کے اثر سے
بچنے کے لئے نشے کی زیادہ مقدار استعمال کرتے ہیں
یہ
نکلتے ہی نشہ کرکے ہیں اور ایک نشہ
بھی نہیں کرتے ، چرس آئس دو دو تین تین نشے کرتے ہیں اس کی وجوہات ہم نے ان سے پوچھی بھی کہ ایسا کیوں
کرتے ہیں تو
انہوں نے بتایا کہ انہیں یہ ڈر بھی ہوتا ہے کہ
لوگ ہمیں پکڑ لیں گے،اور ہم پر مار کا اثر
نہ ہو ۔
تفتیشی
حکام کے مطابق ڈکیتی کے دوران قتل یا زخمی ہونے کی بڑھتی وارداتوں کا ایک سبب اسٹریٹ کرمنل کے ہاتھ میں لوڈڈ گن کا
موجود ہونا بھی پایا گیا ہے۔
بیشتر
واقعات میں ایسا ہوا کہ اسٹریٹ کرمنلز نے
پستول کا بٹ مارنے کی کوشش کی اور گولی چل گئی۔
ہم نے چار لڑکے پکڑے
جنہوں نے بے گناہ بائیکیا رائیڈر کو مارا تھا، تو اس میں بھی وہ ملزم بٹ مارنا چاہ
رہا تھا مگر فائر ہوگیا،
یہ ٹرینڈ نہیں ہوتے انہیں صرف پسٹل چلانا اور
رکھنا آتا ہے،پسٹل کاک ہوجاتا ہے اسٹرائیکر
کو معمولی سے دباؤ کی ضرورت ہوتی ہے
اور فائر ہوجاتا ہے
تفتیشی حکام کہتے ہیں کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں ملوث بیشتر افراد
منشیات کے عادی ہیں
جونشے کی ضرورت پوری کرنے کی غرض سے وارداتیں کررہے ہیں۔
اسٹریٹ
کرائم میں کمی لانے کے لئے منشیات فروشوں کے
خلاف مؤثرایکشن ناگزیر ہے۔