ڈیڈ لائن ، ہیڈ لائن ،ریڈ لائن

عرفان علی عرفان علی

ڈیڈ لائن ، ہیڈ لائن ،ریڈ لائن

پاکستان میں صحافت سے وابستہ افراد ہمیشہ ڈیڈ لائن ، ہیڈ لائن یا پھر ریڈلائن کے حصار میں ہی رہتاہے یہی وجہ ہے کہ دن بہ دن اس کی مشکلات میں اضافہ دیکھا جارہاہے

کہیں دھماکا ہو، فائرنگ ہو ، ہنگامہ آرائی ، لاٹھی چارج ، شیلنگ ہو یا پھر کوئی بھی احتجاجی مظاہرہ جس میں حالات کشیدہ ہونے کا اندیشہ ہو۔یا پھر

کہیں آگ لگے ، لوگ ڈر کر اس مقام سے محفوظ مقام کی جانب منتقل ہوتے ہوں ، قدرتی آفات ہوں اور رونما ہونےولا کوئی بھی حادثہ جس کا سن کر انسان کا جی چاہے اس مقام اس جگہ سے کہیں دور چلاجائو ۔ صرف واحد صحافی ایسا شعبہ ہے جو اس مقام تک پہنچتا ہے اس کور کرتا اپنی جان خطرے میں ڈال کر رونما ہونے والی تمام حالات واقعات کو عکس بند کرتاہے۔

اپنی ڈیوٹی کے دوران صحافی زخمی ہوتے ہیں یہاں تک کے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔

یہ وہ تلخ تجربات ہیں جن میں سیفٹی کا سب سے پہلے خیال رکھنا چاہیے۔

پاکستان میں صحافت پہلے سے ذیادہ بہتر تو ہے لیکن موجود حالات کے لحاظ سے خطرناک بھی ہے۔

ابرار احمد دنیانیوز کے صحافی جو دھماکے میں شدید زخمی ہوئے

میرا نام ابرار احمد ہے اور میں دنیا نیوز سے گزشتہ 14 سالوں سے وابستہ ہوں

میں کوئٹہ کے علاقے خیزی چوک پر واقع ایک ٹرمینل میں دھماکے کی کوریج کے دوران میں زخمی ہوا ، جو 5 ستمبر 2019 کو ہوا تھا

دھماکے کے بعد


ٹرمینل میں ایک دھماکہ ہوا جسکی کوریج کے لیے میں گیا تھا ، جس میں 4 افراد زخمی ہوئے تھے ، جب میں اپنی ٹیم کے ساتھ موقع پر پہنچا ، جونہی ہم ٹرمینل کے  گیٹ پر پہنچے تو وہاں دوسرا دھماکہ ہوا ، جسکے نتیجے میں ، میرا کیمرہ مین رحمت علی ، اور پولیس سمیت 12 افراد زخمی ہوئے ،،، جبکہ ایک ریسکیو اہلکار محمد نعیم دھماکے میں شہید ہوگیا ، جودھماکے کے وقت میرے ساتھ ہی ٹرمینل میں داخل ہو رہے تھے۔


چینل اور صحافیوں کی مدد


میرے آفس کولیگز اور چینل کی جانب سے مجھے مکمل اسپورٹ کیا گیا ،،، چونکہ دھماکے سے میں اور میرا کیمرہ مین رحمت علی شدید زخمی ہوئے تھے ہمیں آئی جی پولیس کے خصوصی طیارے سے کراچی پہنچایا گیا جہاں ہمارا علاج شروع ہوا ،

جب میں پہلی مرتبہ کراچی کے آغا خان اسپتال  پہنچا جہاں پہلے میرے آپریشنز ہوئے اور میں 20 روز تک اسپتال  میں داخل رہا ، یہ تمام اخراجات حکومت بلوچستان نے برداشت کیے ،

زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، کیونکہ جتنا میں دھماکے کے قریب تھا ایسے میں زندہ بچ جانے کسی معجزے سے کم نہیں ،،،


دھماکے یا اس طرح کی کوریجز میں خطرہ تو رہتا ہی ہے ، لیکن میرے خیال سے ہماری جاب پولیس اور ریسکیو سے زیادہ مختلف نہیں کیونکہ دھماکے کے بعد عوام وہاں سے دور بھاگ رہے ہوتے ہیں اور ہم دھماکے کی جانب جا رہے ہوتے ہیں، ،، کوریج تو کرنی ہی ہے لیکن احتیاطی تدابیر بھی ضرور ہونی چاہیں ، ہمارے نیوز چینلز کو چاہیے کہ اس طرح کی کوریج کے لیے ہمیں بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ فراہم کریں ، اور اس طرح کی کوریج کرنے کے لیے ایک طریقہ کار بنایا جائے تاکہ اپنے طور پر احتیاط برتی جا سکے ،،، تاہم زیادہ تر چینلز میں ان دونوں چیزوں کا فقدان ہے ۔


سب سے پہلے تو میڈیا ورکرز اپنے طور پر احتیاط کریں کہ جتنا دور سے ہو سکے فوٹیج لے لیں،  پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے کرائم سین کو عبور نہ کریں،  اور مناسب فاصلے سے تمام چینلز کوریج کریں

اگر میں اپنے واقعے کو دیکھوں تو کیونکہ پہلا دھماکہ ٹرمینل کے اندر ہوا تھا اس لیے ہمیں اندر تو جانا تھا فوٹیجز کے لیے ، اور دوسرا دھماکہ گیٹ پر ہی ہو گیا ، نہ ہی ہمیں پولیس نے اندر جانےسے روکا ، اور نہ ہی کسی چینل نے دور رہنے کا ضابطہ اخلاق فالو کیا ،،، ہم اپنے طور پر 20 سے 25 منٹ کی تاخیر سے پہنچے ، اور ہم سے پہلے بھی کچھ چینلز فوٹیج بنا چکے تھے ، تو جیسے دیگر چینلز اندر گئے ہم بھی ویسے ہی اندر جانے والے تھے،  اگر ہمیں پولیس اندر جانے سے روکتی تو ہم ضرور رک جاتے ۔


سیفٹی سے متعلق کون سی غلطیاں کیں


صحافیوں کو چاہیے کہ جیسے کوئٹہ یا اس طرح کے دیگر علاقوں کے حالات ہیں،  اپنے طور پر ایک ضابطہ اخلاق بنایا جائے کہ تمام چینلز مناسب فاصلے سے کوریج کرینگے اور اپنے ہیڈ آفس کو پابند کیا جائے کہ دھماکے کی کوریج کے لیے بلٹ پروف جیکٹس اور ہیلمٹ فراہم کیے جائیں،  بریکنگ کی دوڑ میں اس طرح کے واقعات رونما ہوتے آئے ہیں،  اس چیز کا بھی خیال رکھا جائے کہ بریکنگ کی وجہ سے کوئی کیمرہ مین زیادہ قریب نہ جائے ،

بہت مشکل وقت تھا میرے لیے ، میری فیملی کے لیے ، لیکن اس واقعہ سے میری فیملی اور چینل کی جانب سے پورا خیال رکھا گیا ۔ دھماکے کے بعد جب مجھے پتا لگا کہ میری ایک ٹانگ فریکچر ہو چکی ہے اور گہرے زخم ہیں اور مجھے مکمل فٹ ہونے میں مہینوں لگیں گے ، یہ ایکسیپٹ کرنا کافی مشکل تھا لیکن میں نے یہ سوچ رکھی کہ مجھے ٹھیک ہونا ہے اور اپنے پاوں پر کھڑے ہوکر زندگی گزارنے ہے ، الحمداللہ میں ٹھیک ہوا اور اپنے پاوں پر چلتے ہوئے اپنا آفس جوائن کیا ۔

میرے علاج کے لیے بلوچستان یونین آف جرنلسٹ نے بھی ابتدائی طور پر کچھ تعاون کیا ، لیکن میں خصوصی طور پر شکر گزار ہوں ہمارے بیورو چیف عرفان سعید صاحب کا ، جنہوں نے میرے زخمی ہونے کی اطلاع ملنے سے لیکر میرے کوئٹہ اور کراچی میں علاج ، ہیڈ آفس اور حکومت بلوچستان کی علاج کرانے کے اخراجات اور میں 15 ماہ تک میں آفس نہیں جا سکا ، میری سیلری سمیت تمام سہولیات مجھے گھر پر ملتی رہیں،  جس پر میں بیورو چیف اور دنیا نیوز کا بے حد مشکور ہوں ۔

5 ستمبر 2019 کو دھماکے کی کوریج کے دوران میں زخمی ہوا ، پہلے کوئٹہ کے سول ہسپتال مجھے پہنچایا گیا جسکے بعد اسی رات مجھے سی ایم ایچ کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں رات گئے پہلا آپریشن ہوا ، اور 6 ستمبر کی شام ہمیں کراچی پہنچایا گیا ، ستمبر 2019 سے جون 2020 تک میرے 7 آپریشنز ہوئے ، ہر ماہ مجھے چیک اپ یا ٹریٹ منٹ کے لیے کراچی جانا ہوتا تھا ، میرے آخری آپریشن کے بعد بھی میں سہارے کے بغیر چل نہیں سکتا تھا ، اور اسکے بعد مجھے تقریبا 6 ماہ مزید لگے جب میں بغیر کسی سہارے کے چلنا شروع کیا اور دسمبر 2020 میں دوبارہ دنیا نیوز جوائن کیا ،


احتیاط تو ہم پہلے بھی کرتے تھے کیونکہ مجھ سے پہلے بھی کوئٹہ کے کئی صحافی شہید یا زخمی ہوئے ،

جس دھماکے سے میں زخمی ہوا اسکے بعد جب میں اس طرح کی کوریج کے لیے جاتا ہوں ، 2019 کا دھماکہ ذہن میں رہتا تو ہے لیکن زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، اپنے طور پر دور رہ کر کوریج کرنے یا دیگر احتیاطی تدابیر میں اپنے طور پر کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن زیادہ تر ہمارے صحافی ایسے نہیں کرتے ، میں انہیں بھی ایسا کرنے کا بتاتا ہو


فریڈم نیٹ ورک کی سالانہ پاکستان پریس فریڈم رپورٹ کے مطابق، مئی 2022 سے مارچ 2023 کے درمیان پاکستان میں صحافیوں، میڈیا پروفیشنلز اور میڈیا اداروں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کے کم از کم 140 واقعات رپورٹ ہوئے۔


سابق جنرل سیکرٹری پریس کلب  کراچی رضوان بھٹی کہتےہیں اس طرح کا کوئی ڈیٹا مرتب تو پریس کلب کی جانب سے نہیں کیا جاتاہے البتہ کوئی کسی واقعے صحافی زخمی ہوجائے یا ادارے سے نکال دیا جاتا ہے تو پریس کلب جتنی ممکنہ مدد کرسکتاہے اپنے ساتھیوں کے تعاون سے ان سے ذیادہ انکی مدد کرتاہے۔

میرا نام سید رحمت علی ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے دنیا ٹی وی سے  وابستہ رہاہوں،

میں بھی کوئٹہ کے خیزی چوک دھماکے کی کوریج کےرپورٹر  ابرار احمد کے ساتھ زخمی ہوا  تھا ،  یہ دھماکا  5 ستمبر 2019 کو ہوا تھا۔ میں یہ سمجھتاہوں کہ

جیسے ہی بلاسٹ ہوتا ہے اس مقام پر جلدی نہیں پہنچنا چاہیے۔  خطرہ رہتاہے کہیں دوسرا بلاسٹ یا دھماکا نہ ہوجائے۔ ہر ادارے کو یا صحافی تنظیم کو جہاں کہیں بھی وہ کام کررہے ہیں۔بلڈ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ  لازمی دینی چاہیے ۔ اگر بلاسٹ ہوتاہےتو وہ محفوظ رہ سکیں ۔ سیفٹی کے حوالے سے ان چیزوں پر ذیادہ فوکس کرنا چاہیے۔

ایک مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھنا پھر ایک بڑی مصیبت میں پھنس جانا جیسے دھماکے میں زخمی ہوئے اور خطرناک حد تک زخم آئے۔بہت ذیادہ مشکلات ہوتی ہے آپ کی سیلری اتنی نہیں ہوتی ہے ایک اچھے اسپتال میں اپنا معائنہ کراسکیں ۔ ہم خوش قسمت تھے ہمیں بلوچستان حکومت اور نجی ٹی وی دنیا ٹی وی نے ہمارا علاج کرایا ۔ لیکن تکلیف پھر بھی ہے گھر میں ایک جگہ پڑے ہو  تکلیف میں رہتے ہو درد، ذہنی مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ جب دھماکا ہوا تووہاں پر موجود ایک بندے کو ایمبولینس میں لیکر گئے مجھے پرائیوٹ گاڑی میں لیکراسپتال پہنچایاگیا۔راستے میں ٹریفک پھنسے رہے کس تکلیف میں تھا وہ بتا نہیں سکتا پھر بی ایم سی اسپتال پہنچایاگیا ۔ جہاں پر غیر ذمہ دار عملہ رات کی شفٹ  میں تھا۔ جو سیکھنے والےبندے ہوتے ہیں رات میں وہی بندے رکھے ہوئے تھے تکلیف میں تھے تڑپتے رہے کوئی پوچھنے والا نہیں  تھا ۔

زخمی  ہونے کے بعد جب مکمل صحتیاب ہوگیا تو میرے اہل خانہ نے مجھے میڈیا میں کام کرنے سے منع کردیاہے اور میں نے ریزائن کردیا ہے۔ اب صحافت سے دور ہو۔

 

کراچی کے پولیس افسر عرفان بہادر کہتےہیں کہ اگر صحافی پولیس کے ساتھ تعاون کریں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں تو ہم کسی بھی ہونے والے  بڑے نقصان سے بچ سکتےہیں۔ لیکن سب سے پہلے سب سے آگے کی دوڑ ہمیں نقصان کا سامنا کرا دیتی ہے جوجہ نہیں ہونا چاہیے۔

بلوچستان یونین آف جنرلسٹ کے صدر ایوب ترین کہتے ہیں کہ کوئٹہ  پاکستان کےدیگر شہروں کے حوالے سے مختلف ہے یہاں ذیادہ ترلوگ روایتی رہتے ہیں جو ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں جانا لازمی سمجھتے ہیں ایسےمیں ہمارے کسی بھی ساتھے کے ساتھ کسی قسم کا بھی مسئلہ کیوں نہ ہو ہم سب اکھٹے کھڑے ہوتےہیں  جس کی مثالیں ماضی میں ہونے والے بم دھماکوں میں شہداء صحافیوں کے ورثاء سے لی جاسکتی ہیں۔

سینئر ایڈیٹر ہم نیوز شعیب انصاف کہتےہیں کہ ہمارے چینل کی اس حوال سے واضح پالیسی ہے کہ دھماکے یا خطرناک جگہ پر سب سے پہلے جو کام کرنا وہ یہ ہے کہ آپ نے اپنی حفاظت کرنی ہے اور اپنے آپ کو محفوظ بنانا ہے خدانخواستہ کوئی حادثے میں زخمی ہوجائے اور جو میڈیکل سہولت فراہم کی گئی ہے اس سے بل تجاوز کرجائے تو اس میں بھی ہمارے ادارے کی جانب سے بڑا تعاون کیا جاتا تمام اخراجات برداشت کئے جاتے ہیں جب تک  صحافی مکمل طورپر صحتیاب ہوکر نہیں پہنچتا تو اسے چھٹیاں فراہم کی جاتی ہیں۔

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، 2022-2023 کے دوران کم از کم 72 صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز پر حملے کیے گئے — جن میں صحافیوں کے دو قتل، حملے کے 62 واقعات، اغوا یا اغوا کے تین واقعات، چھاپوں کے تین واقعات اور دو حراستیں شامل ہیں۔


نوٹ: یہ تحقیقاتی رپورٹ پاکستان پریس فاؤنڈیشن (پی پی ایف) کے تحت فیلو شپ پروگرام  کا حصہ ہے۔