ناول لکھنے والی لڑکی کو خاموش کردیا۔
وہ تتلیوں کے دیس جا بسی۔
ابھی تو بہت کچھ لکھنا باقی تھا
جو دل و دماغ میں تھا
جو سوچ کی سرحدوں سے کاغذ پر اترنا تھا
وہ خیال باقی رہ گیا ۔
کسی سے بچھڑنے کا غم یا ملنے کی خوشی کے لمحے کو اس سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا ۔
اپنی دھرتی پر اس نے خون کا منظر دیکھا تھا ۔
ایک ایسا بھیانک خواب جو حقیقت تھا ۔
جس میں اپنے پیاروں کے جسم کے لوتھڑے اور برہنہ لاشیں تھیں۔
ہر سوں تباہی کے منظر وہ جگہیں وہ مقام جہاں زندگی اور خوبصورتی کی باتیں ہوتی تھیں
اب صرف دھواں دھواں ہے
آس نراش ہے ،
سب ضبط کے بند ٹوٹ چکے ہیں۔
درد اپنی انتہا کو چھو اٹھا تھا۔
ننھے بچوں کو زخموں سے چور تڑپتا دیکھ کر وہ کئی بار خون کے آنسو روئی ہوگی۔
ابھی تو اس کو ناول کے تمام حصے مکمل طورپر حقیقت کاروپ دھارنے کو تیار تھے۔
ایک کہانی جس میں ماں ہے بچہ ہے باپ ہے پھر بم ہے تباہی ہے ویرانہ ہے جدائی درد ہے تکلیف دکھ کے نوحے ابھی تو لکھنا باقی تھی۔
ابھی تو اسےزندگی کا سسکتا پلاٹ ملا تھا
جس میں روتے بلکتے بچوں کی آوازیں
آخری سانسیں لیتی ماں کےاوپر گرا چھوٹا بچہ اسے اٹھنے کا کہہ رہاہے
اور وہ ابدی نیند سو چکی ہے
ابھی تو ناول کےکئی پلاٹ ایسے تھے جو لکھنا باقی تھے۔
کردار جو درد محبت جدائی تڑپ وطن کی آزادی کے جنگجو جنہوں نے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھی اور ایک بم دھماکے میں صرف دھوئیں کا ڈھیر بن کر رہ گئیں۔
اس میں ناول لکھنے والی لڑکی کا انداز نظر کتنا دردآمیز ہوگا لفظوں سے رستے زخم اس کے احساس کی باتیں پڑھنے والوں کو یہ پیغام دیتے کس درد کے جزیرے سے وہ خود لوٹ آئی ہے۔
اگر وہ اپنی جنگ کے اس ناول کو لکھتی تو اس کا انداز کیا ہوتا وہ کیسے اس کی منظر نگاری کرتی ابھی وہ خیال دل میں ذہن میں باقی رہ گیا وہ خیال لکھنا باقی تھا
جسے پڑھ کر اندازہ ہوتاہے حماذ کی جنگ نہیں تھی بربریت تھی رنج الم تھا یہ منظر ابھی لکھنا باقی تھے۔
۔ جنگ سے پہلے بچوں کی ماں سے انیست انکا لاڈ پیار انکی نادانیاں معصوم شرارتیں، باپ کا تھک ہار کر دن بھر کام سے لوٹ کر آنےاور اپنے بچوں کو دیکھ کر خوشی سے تروتازہ ہونے کا منظر ابھی لکھنا باقی تھا۔
ابھی محبت کے رشتوں کے ڈور مضبوط ہاتھوں میں تھی۔ جب تباہی ہوئی تو زندگی کی سب منظر دھندلے ہوگئےسب مٹی میں مل گیا سب خاک ہوا۔
یہ کہانیاں ہبہ کو ابھی لکھنا باقی تھی اس کم عمری میں جو ناول لکھا تھا اس کا عنوان ابھی کے حالت سے مطابقت رکھتاہے وہ ناول اس نے پہلے کیوں لکھا یا پھر اسےمعلوم تھا کہ کوئی بے رحم میزائل بارود، اس کے جسم کے ساتھ بھی وہ کرے گا جو ہزاروں فلسطینی بچوں اور عورتوں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔
دھرتی کے درد سینے میں سجا کر وہ سو گئیں
اسرائیلی بمباری غزہ کی
معروف شاعرہ اور مصنفہ ہبہ کمال ابوندا بھی شہید ہوگئیں
ہبہ کمال 32 سالہ مصنفہ تھیں۔ جنہوں نے ناول آکسیجن از ناٹ فارداڈیڈ
کی وجہ سے شہرت پائی تھی۔
اس کی اداس آنکھوں میں اگرجھانک کر دیکھیں محبت کے سب گیت ادھورے نظر آئینگے یوں محسوس ہوگا جیسے کچھ ادھورا ادھورا سا من میں رہ گیاہے۔
آخری پوسٹ میں لکھنے والوں کو ایک ون لائنر دے کر ہمیشہ کےلیے چلی گئ۔
اگر ہم مرجائیں توجان لیں کہ ہم ثابت قدم اور سچے ہیں ہبہ کمال ندا کی آخری سوشل میڈیا پر پوسٹ