تیسری ویمن کانفرنس کے آخری روز خواتین کے تخلیقی میڈیا میں کردار پر بھی نشست رکھی گئی۔ صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی کا کہناتھا کہ خواتین کو میڈیا کے مختلف شعبوں میں ٹریننگ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنے ڈراموں میں سماجی موضوعات پر روشنی ڈالنے کی وجہ سے کئی مرتبہ پیشیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
خواتین تخلیقی میڈیا میں بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھارہی ہیں۔
تیسری ویمن کانفرنس میں خواتین کے تخلیقی میڈیا میں کردار کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی۔
لکھاری بی گل کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہم ٹیلی ویژن کے فلم فیسٹیول سے ہی کیریئر کی شروعات کی تھی۔ مگر پہلی ہی فلم پر ایوارڈ
ملنا نقصان کے مترادف تھا۔
صبیحہ ثمر نےکہا کہ فلم میکنگ ایک سنجیدہ
پروفیشن ہے،، جیسے دیگر شعبوں کی ٹریننگ
ہوتی ہے۔ ایسے ہی فلم کی ٹریننگ لازمی ہے۔
صدر ہم نیٹ ورک سلطانہ صدیقی نے کہا باہر نکلنے پر خاتون ہونا ہی ایک چیلنج ہوجاتا ہے۔جب آپ ایسی چیز کریں ،، جو دوسروں کےلیےچیلنج ہو،، تو پھر مشکلات آتی ہیں۔
اداکارہ ثانیہ سعید کا کہنا تھا کہ آج کے دور میں ڈراموں کا اسکرپٹ ایک دوسرے
سے مشابہت رکھتا ہے۔ پاکستان میں مل کر لکھنے کا رجحان نہیں ہے۔
ویمن کانفرنس کے آخری روز گلوکارہ کیف غزنوی نے سر بھی بکھیرے۔
اداکارہ بختاور مظہر کی ڈرامہ پرفارمنس بھی پیش کی گئی